World
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا خلیجی اتحاد کا مطالبہ
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے خلیجی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں اپنے حقیقی دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے باہمی اتحاد قائم کریں۔ اس دوران سفارتی کوششوں میں تعطل کے باعث آبنائے ہرمز میں ایرانی پابندیاں اور کشیدگی تاحال برقرار ہے۔
تہران: ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے خلیجی ممالک کے حکمرانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے خطے میں اپنے 'حقیقی دشمن' کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک مضبوط اور دیرپا اتحاد قائم کریں۔ تہران سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سفارتی کوششیں جمود کا شکار ہیں اور تزویراتی لحاظ سے انتہائی اہم سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز کے امور پر کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ مبصرین کے نزدیک یہ بیان خطی سیاست میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب، ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی اور نقل و حرکت پر عائد کردہ سخت پابندیاں اور پابندی کے اقدامات ہنوز برقرار ہیں۔ بین الاقوامی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے اس بحری گزرگاہ کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی برادری اور علاقائی طاقتیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ تہران کا موقف رہا ہے کہ خطے کے مسائل کا حل بیرونی مداخلت کے خاتمے اور باہمی تعاون میں پنہاں ہے، جس کے لیے خلیجی ممالک کو خود آگے بڑھنا ہوگا۔
بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں اس بیان پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ واشنگٹن اور دیگر مغربی دارالحکومتوں کے ساتھ تہران کے تعلقات میں تناؤ کی فضا اب بھی طاری ہے۔ سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک علاقائی سطح پر اعتماد سازی کے عملی اقدامات نہیں اٹھائے جاتے، آبنائے ہرمز جیسی حساس گزرگاہوں پر کشیدگی کم ہونے کے امکانات محدود ہیں۔ ایرانی قیادت کی طرف سے خلیجی ممالک کو دیا جانے والا یہ پیغام اس بات کا غماز ہے کہ تہران خطے کے اندرونی سیکیورٹی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کا خواہاں ہے۔