World
امریکہ، اسرائیل اور ایران میں اندرونی سیاسی بحران
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگ کے چھ ماہ مکمل ہونے کے بعد امریکہ، اسرائیل اور ایران کی حکومتیں اندرونی سیاسی محاذ پر شدید دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔ تینوں ممالک کے رہنماؤں کو اپنی اپنی عوام اور سیاسی حریفوں کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا ہے۔
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ کو چھ ماہ گزر چکے ہیں، لیکن اب اس جنگ کے اثرات میدانِ جنگ سے نکل کر تینوں ممالک کے اندرونی سیاسی منظر نامے پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ تینوں ممالک کی حکومتیں اس وقت بیرونی محاذ کے ساتھ ساتھ اپنے ہی گھر میں شدید سیاسی جنگ لڑ رہی ہیں، جہاں حکمرانوں کو اندرونی دباؤ کا سامنا ہے۔
اسرائیل میں وزیر اعظم اور ان کی حکومت کو ملکی سلامتی اور جنگ کے طویل اثرات کے حوالے سے شدید عوامی تنقید کا سامنا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں اور عام شہری جنگ کے مقاصد اور اس کے معاشی نتائج پر سوالات اٹھا رہے ہیں، جس سے حکومتی اتحاد کو سیاسی طور پر کمزور کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، جنگ کی وجہ سے اندرونی سطح پر پیدا ہونے والے سکیورٹی خدشات نے حکومت کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
دوسری جانب، ایران میں بھی اندرونی معاشی دباؤ اور پابندیوں کی وجہ سے حکومت کو شدید سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے۔ عوامی سطح پر بڑھتی ہوئی مہنگائی اور جنگی صورتحال کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات نے حکومت کے لیے داخلی امن کو برقرار رکھنا مشکل بنا دیا ہے۔ ایرانی قیادت اندرونی سیاسی مخالفت کو دبانے اور معیشت کو سنبھالنے کے لیے مختلف حکمت عملیوں پر غور کر رہی ہے۔
امریکہ میں بھی اس تنازع کے سیاسی اثرات واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ واشنگٹن میں پالیسی سازوں کے درمیان مشرق وسطیٰ کی جنگ میں امریکہ کی شمولیت اور اس کے اخراجات پر گرما گرم بحث جاری ہے۔ صدارتی انتظامیہ کو اندرونی سیاسی حریفوں کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملکی سطح پر دیگر اقتصادی مسائل بھی سر اٹھا رہے ہیں۔