Business
پاک سعودیہ اقتصادی شراکت داری، زرعی برآمدات تین ارب ڈالر کرنے پر اتفاق
پاکستان اور سعودی عرب نے باہمی تعاون کو مزید فروغ دیتے ہوئے اپنی زرعی اور غذائی برآمدات کو تین ارب ڈالر تک پہنچانے کا اہم فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد دونوں برادر ملکوں کے درمیان اقتصادی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنا اور فوڈ سیکیورٹی کے شعبے میں تعاون بڑھانا ہے۔
اسلام آباد اور ریاض کے درمیان تعلقات میں ایک نیا باب رقم کرتے ہوئے دونوں ممالک نے اپنی زرعی اور غذائی برآمدات کو تین ارب ڈالر تک بڑھانے کے اہم ہدف پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس فیصلے کا بنیادی مقصد دونوں برادر اسلامی ملکوں کے درمیان دوطرفہ معاشی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانا اور غذائی تحفظ کے چالشوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔ اعلیٰ سطحی رابطوں کے دوران دونوں رہنماؤں نے اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے اور اقتصادی روابط کو وسعت دینے پر زور دیا۔
اس نئے معاہدے کے تحت پاکستانی زرعی مصنوعات اور فوڈ آئٹمز کے لیے سعودی مارکیٹ تک رسائی کو مزید آسان بنایا جائے گا۔ پاکستان میں زرعی شعبے کی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے برآمدی حجم میں خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔ دونوں ممالک کے متعلقہ حکام نے اس ہدف کے حصول کے لیے کام کا آغاز کر دیا ہے تاکہ تجارتی خسارے کو کم کیا جا سکے اور دونوں معیشتوں کو باہمی طور پر فائدہ پہنچایا جا سکے۔
وزیراعظم پاکستان نے اس موقع پر سعودی عرب کو ایک اہم اور قابلِ اعتماد اسٹریٹجک پارٹنر قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک کے مابین اقتصادی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مکہ معاہدہ خطے میں پائیدار امن اور ترقی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا اور اس سے خطے کے عوام کو خوشحالی کی طرف لے جانے میں مدد ملے گی۔ سعودی حکام نے بھی پاکستان کے ساتھ زرعی اور تجارتی شعبوں میں بھرپور تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس پیش رفت سے پاکستان کے زرعی شعبے کو زبردست فروغ ملے گا اور کسانوں اور برآمد کنندگان کے لیے روزگار اور منافع کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ سعودی عرب کی جانب سے اس منڈی کی فراہمی سے پاکستان کی برآمدات میں تنوع آئے گا اور زرمبادلہ کے ذخائر کو استحکام حاصل ہوگا۔ دونوں برادر ممالک کے درمیان یہ اسٹریٹجک تعاون خطے میں تجارتی اور معاشی تعلقات کا ایک نیا سنگِ میل ثابت ہوگا۔