World
ہمالیائی سیلاب اور قدرتی آفت، ہلاکتیں 800 کے قریب، ریسکیو آپریشن جاری
ہمالیائی خطے میں ہلاکت خیز سیلاب کے بعد امدادی سرگرمیاں انتہائی تیزی سے جاری ہیں جہاں مرنے والوں کی تعداد آٹھ سو کے قریب پہنچ گئی ہے۔ حکام کے مطابق ہائیڈرو پاور ٹنلز میں پھنسے سیکڑوں افراد کو نکالنے کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
ہمالیائی خطے میں اچانک آنے والے شدید سیلاب اور تودے گرنے کے واقعات کے بعد امدادی کارروائیاں جنگی بنیادوں پر جاری ہیں، جبکہ اس ہلاکت خیز آفت کے نتیجے میں مرنے والوں کی مجموعی تعداد آٹھ سو کے قریب پہنچ گئی ہے۔ نیپال اور تبت کے مختلف علاقوں میں آنے والے اس فلیش فلڈ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جس کے بعد ریسکیو ٹیموں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ ملبے کے ڈھیروں اور طغیانی کے باوجود اپنی کوششیں مزید تیز کر چکے ہیں تاکہ متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا سکے۔
اس آفت کے دوران سب سے بڑا چیلنج ہائیڈرو پاور ٹنلز میں پھنسے ہوئے سیکڑوں افراد کی بازیابی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ریسکیو اہلکار اس بات کی شدت سے کوشش کر رہے ہیں کہ سرنگوں میں محصور مزدوروں اور عملے کو بحفاظت باہر نکالا جائے۔ بی بی سی اور روئٹرز کی رپورٹس کے مطابق حکام نے اوپر کی جھیلوں کے حالات کا جائزہ لینے کے بعد ریسکیو کے کاموں کو مزید منظم اور وسیع کر دیا ہے، تاکہ کسی بھی ممکنہ ثانوی خطرے سے نمٹا جا سکے اور زیادہ سے زیادہ زندگیاں بچائی جا سکیں۔
دوسری جانب، نیپال اور تبت کے سرحدی علاقوں میں صورتحال تاحال انتہائی تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ قدرتی آفت سے قبل اس خطے میں بڑی تعداد میں ہندو یاتری بھی موجود تھے جو کہ ماؤنٹ کیلاش کی زیارت کے لیے آئے تھے۔ مقامی انتظامیہ اور بین الاقوامی امدادی ادارے متاثرہ خاندانوں تک ریلیف پہنچانے اور رابطہ سڑکوں کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں، تاہم تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں تاخیر بھی ہو رہی ہے۔