LIVE
Loading Breaking News...

امریکی مہنگائی میں ٹرمپ ٹیرف اور اے آئی کا کردار: فیڈرل ریزرو کا انکشاف

News Image
فیڈرل ریزرو کی تازہ ترین تجزیاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دور کے محصولات اب براہ راست صارفین تک پہنچ رہے ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت کے شعبے کی بڑھتی ہوئی مانگ بھی مہنگائی میں اضافے کی بڑی وجہ بن رہی ہے۔ وال اسٹریٹ کے ماہرین کے مطابق یہ دونوں عوامل مل کر مہنگائی کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
امریکہ کے مرکزی بینک فیڈرل ریزرو کے تحت سامنے آنے والے ایک تازہ ترین تجزیے نے معاشی ماہرین اور عام صارفین کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں لگائے جانے والے تجارتی محصولات کا بوجھ اب بالآخر براہ راست عام صارفین تک پہنچنا شروع ہو چکا ہے۔ اگرچہ ابتدائی طور پر ان محصولات کے اثرات کو کچھ تاخیر کا سامنا تھا، لیکن اب منڈیوں میں اشیاء کی قیمتیں اس کا واضح اثر دکھا رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ٹیرف کے یہ اخراجات اب ریٹیل مارکیٹ اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی خریداری پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب، اس معاشی صورتحال میں صرف تجارتی پالیسیاں ہی ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی (AI) کی ٹیکنالوجی کا فروغ بھی مہنگائی میں برابر کا حصہ ڈال رہا ہے۔ تجزیات کے مطابق اے آئی ہارڈویئر اور جدید کمپیوٹر سسٹمز کی بڑھتی ہوئی عالمی مانگ اکیلی ہی امریکی افراط زر یا مہنگائی میں صفر اعشاریہ چار فیصد (0.4%) کا اضافہ کر رہی ہے۔ جدید ڈیٹا سینٹرز کے قیام اور مصنوعی ذہانت سے منسلک چپس اور آلات کی تیاری کے لیے درکار خام مال اور توانائی نے سپلائی چین پر شدید دباؤ ڈالا ہے، جس کے اثرات اب مجموعی معیشت میں دیکھے جا رہے ہیں۔ وال اسٹریٹ کے نامور معاشی حکمت عملی سازوں کا کہنا ہے کہ ٹیرف اور مصنوعی ذہانت کی یہ لہریں ایک 'ٹیم' کی طرح کام کر رہی ہیں، جو امریکی معیشت میں مہنگائی کو کم ہونے سے روک رہی ہیں۔ روایتی تجارتی رکاوٹیں اور جدید ترین ٹیکنالوجی کی بلند قیمتیں مل کر صارفین کی قوت خرید کو متاثر کر رہی ہیں۔ فیڈرل ریزرو کے اس تجزیے نے ان خدشات کو درست ثابت کر دیا ہے کہ معاشی چیلنجز اب محض روایتی عوامل تک محدود نہیں رہے بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے اخراجات بھی اب افراط زر کی شرح کو اوپر رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔