LIVE
Loading Breaking News...

چین میں فیکٹری آٹومیشن اور روبوٹکس کا نیا دور

News Image
چین میں روبوٹکس کے حوالے سے فینسی اور دکھاوے والے انسان نما روبات کو نمایاں کیا جا رہا ہے لیکن اصل صنعتی انقلاب فیکٹریوں میں عام آٹومیشن کی صورت میں برپا ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق حقیقی معیشت اور مینوفیکچرنگ سیکٹر کو روبوٹکس کی روایتی اور عملی شکلوں سے فائدہ پہنچ رہا ہے۔
چین میں جاری روبوٹکس کی ترقی کے دوران ایک دلچسپ حقیقت سامنے آئی ہے جہاں دیکھنے میں دلکش اور فینسی انسان نما روبات محض ایک سائیڈ شو کی حیثیت رکھتے ہیں جبکہ اصل صنعتی اور معاشی انقلاب فیکٹریوں کے اندر عام آٹومیشن کی بدولت آ رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اگرچہ چین مختلف تقریبات اور نمائشوں میں مارشل آرٹس کرنے والے یا مار دھاڑ کے جوہر دکھانے والے روبات پیش کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، تاہم فیکٹری کے پیچیدہ اور محنت طلب کاموں میں ان انسان نما روبات کا عملی استعمال تاحال محدود اور چیلنجز کا شکار ہے۔ عالمی روبوٹ کانفرنس اور دیگر صنعتی پلیٹ فارمز پر اگرچہ جدید ترین ٹیکنالوجی اور میککینیکل ایجادات کی نمائش کی جاتی ہے، مگر معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اصل پیداواری طاقت فیکٹری آٹومیشن میں پوشیدہ ہے۔ فیکٹریوں میں استعمال ہونے والے مخصوص روبوٹ اور خودکار سسٹمز پیداواری صلاحیت کو تیزی سے بڑھا رہے ہیں اور مینوفیکچرنگ کے عمل کو بہتر بنا رہے ہیں۔ چین کی صنعتی ترقی کا اصل راز ان عام لیکن انتہائی مؤثر روبوٹک سسٹمز میں پوشیدہ ہے جو بڑی فیکٹریوں کی پروڈکشن لائنز پر دن رات کام کر رہے ہیں۔ اس صورتحال نے ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک نئی بحث بھی چھوٹی ہے کہ آیا روایتی انسانی محنت پر انحصار کم کرنے والی یہ روبوٹک لہر ان کے لیے طاقت ثابت ہوگی یا کسی بڑے معاشی چیلنج کا پیش خیمہ بنے گی۔ بہرحال، صنعتی آٹومیشن کا یہ رجحان دنیا بھر میں مینوفیکچرنگ انڈسٹری کے مستقبل کی سمت طے کر رہا ہے اور چین اس دوڑ میں سب سے آگے ہے۔