LIVE
Loading Breaking News...

نیویارک سب وے کے لیے کینیڈین کولنگ ٹیکنالوجی

News Image
کینیڈا کی جدید ماحولیاتی ٹیکنالوجی کو نیویارک کے گرم سب وے اسٹیشنوں کو ٹھنڈا کرنے اور ضائع ہونے والی حرارت کو دیگر مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے لیے جانچا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف مسافروں کو راحت ملے گی بلکہ توانائی کے شعبے میں پائیداری کو بھی فروغ ملے گا۔
نیویارک شہر کے زیر زمین سب وے اسٹیشنوں میں شدید گرمی اور حبس کا مسئلہ طویل عرصے سے مسافروں کے لیے درد سر بنا ہوا ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے اب کینیڈا کی ایک جدید ماحول دوست ٹیکنالوجی پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد نہ صرف سب وے کے پلیٹ فارمز کو ٹھنڈا کرنا ہے بلکہ اس گرمی کو 'مائن' کر کے یعنی حاصل کر کے اسے شہر کے دوسرے حصوں میں کارآمد بنانا بھی ہے۔ ماہرین کے مطابق زیر زمین اسٹیشنوں میں جمع ہونے والی اضافی حرارت کو اگر کامیابی سے ری سائیکل کر لیا جائے تو یہ توانائی کے بحران سے نمٹنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ حالیہ ماحولیاتی رپورٹس میں اس ٹیکنالوجی کو شہروں کو زیادہ سبز اور توانائی کے لحاظ سے خود کفیل بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا ہے۔ نیویارک کے حکام اس پروجیکٹ کے تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اسے عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ اس کینیڈین ٹیکنالوجی کے تحت سب وے ٹنلز اور اسٹیشنوں سے گرم ہوا کو جذب کر کے اسے خاص ہیٹ پمپس کے ذریعے قریبی عمارتوں کے نظامِ حرارتی یا پانی گرم کرنے کے لیے منتقل کیا جائے گا۔ اس سے نہ صرف سب وے کے اندر درجہ حرارت قابل برداشت سطح پر آئے گا بلکہ شہر کے کاربن فوٹ پرنٹ کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ عالمی سطح پر ماہرین اس منصوبے کو شہری ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف ایک بہترین حکمت عملی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اگر یہ تجربہ کامیاب ہو جاتا ہے تو دنیا کے دیگر بڑے شہر بھی اپنے سب وے سسٹمز میں اس کینیڈین ماڈل کو اپنانے پر غور کریں گے، جس سے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں مزید تیزی آئے گی۔