LIVE
Loading Breaking News...

سویدن میں ڈیمنشیا کے برطانوی مریض کی جلاوطنی ملتوی

News Image
برطانیہ سے تعلق رکھنے والے ایک ڈیمنشیا کے مریض کی سویدن سے متوقع جلاوطنی کو حکام نے عارضی طور پر روک دیا ہے۔ اس کیس نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر قانونی اور طبی حلقوں میں بحث چھوٹی ہے۔
برطانیہ کے علاقے لیسٹر شائر سے تعلق رکھنے والے جارج میسن، جو کہ ڈیمنشیا کے مرض میں مبتلا ہیں، کی سویڈن سے متوقع جلاوطنی کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔ حکام نے ان کی صحت کی نازک حالت اور انسانی ہمدردی کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ قدم اٹھایا ہے۔ جارج میسن طویل عرصے سے سویڈن میں رہائش پذیر تھے لیکن حالیہ امیگریشن قوانین اور پیچیدگیوں کی وجہ سے انہیں ملک بدر کیے جانے کا سامنا تھا۔ اس فیصلے کے بعد ان کے اہل خانہ اور قانونی ٹیم نے سکھ کا سانس لیا ہے کیونکہ اس بیماری میں مبتلا شخص کے لیے ماحول کی تبدیلی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیمنشیا کے مریضوں کو فوری طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا ان کی یادداشت اور ذہنی توازن پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ مقامی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ جارج میسن کی طبی حالت کو دیکھتے ہوئے انہیں سویڈن میں ہی رہنے کی اجازت دی جائے۔ اگرچہ یہ تاخیر عارضی ہے تاہم وکلاء کا خیال ہے کہ اس سے انہیں قانونی جنگ لڑنے کے لیے مزید مہلت مل گئی ہے۔ سویڈن کے متعلقہ ادارے اب اس پورے معاملے کا از سر نو جائزہ لے رہے ہیں تاکہ انسانی ہمدردی کے اصولوں کے مطابق کوئی حتمی اور منصفانہ فیصلہ کیا جا سکے جو اس مریض کی صحت کے لیے بھی موزوں ہو۔