LIVE
Loading Breaking News...

سڈنی میراتھن میں اسرائیلی فوجیوں کی شرکت پر شدید ہنگامہ اور احتجاج

News Image
آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ہونے والی میراتھن ریس میں اسرائیلی فوجیوں کی شرکت کے خلاف فلسطین کے حامیوں نے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا۔ مظاہرین نے فلسطینی پرچم لہکاتے ہوئے آسٹریلوی حکومت کی جانب سے اسرائیلی فوجیوں کو ویزے جاری کرنے پر سخت تنقید کی۔
آسٹریلیا کے سب سے بڑے شہر سڈنی میں منعقدہ سالانہ میراتھن ریس کے دوران اس وقت کشیدہ صورتحال پیدا ہو گئی جب مبینہ طور پر اسرائیلی فوجیوں کی اس میں شرکت کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا۔ اس واقعے کے بعد سے مقامی سطح پر اور بین الاقوامی سطح پر بھی گرما گرم بحث شروع ہو گئی ہے کہ آیا تنازعات میں ملوث ممالک کے فوجیوں کو اس طرح کے کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ لینے کی اجازت دی جانی چاہیے یا نہیں۔ مظاہرین کی ایک بڑی تعداد نے سڈنی میراتھن کے راستے پر جمع ہو کر فلسطینی پرچم لہرائے اور نعرے بازی کی۔ مظاہرین کا بنیادی اعتراض آسٹریلوی حکومت کی جانب سے ان اسرائیلی فوجیوں کو ملک میں داخلے کے لیے ویزے جاری کرنے پر تھا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں جب غزہ اور مشرق وسطیٰ میں انسانی المیہ جنم لے رہا ہے، اسرائیلی فوجیوں کو اس طرح کھلے عام بین الاقوامی کھیلوں میں شرکت کی سہولت فراہم کرنا اخلاقی طور پر درست اقدام نہیں ہے۔ دوسری جانب، منتظمین اور مقامی حکام کا کہنا ہے کہ میراتھن جیسے کھیل ہر ایک کے لیے کھلے ہوتے ہیں اور اس کا مقصد دنیا بھر کے لوگوں کو جوڑنا ہے۔ تاہم، احتجاج کرنے والے حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر سنجیدہ نظرثانی کرے اور آئندہ ایسے فیصلوں سے گریز کرے جو معاشرتی ہم آہنگی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ پولیس اور سکیورٹی اداروں نے موقع پر موجود رہ کر صورتحال کو قابو میں رکھا تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے، تاہم احتجاج کے باعث میراتھن کے انتظامات کچھ دیر کے لیے متاثر ہوئے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر عالمی سطح پر کھیلوں اور سیاست کے باہم گہرے تعلق کو اجاگر کر دیا ہے جہاں سیاسی تنازعات کھیلوں کے میدانوں تک بھی پہنچ رہے ہیں۔