LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی وزیر اعظم نیتنیاہو کی منافقانہ مذمت اور فلسطینی ریاست کا خاتمہ

News Image
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتنیاہو کی جانب سے حالیہ آباد کاروں کے حملوں کی مذمت محض ایک زبانی ڈھونگ ہے۔ درحقیقت یہ فلسطینی ریاست کے خاتمے کے لیے ایک سوچی سمجھی اور مالی اعانت سے چلنے والی مہم کا حصہ ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتنیاہو کی جانب سے حالیہ ہفتے کے آخر میں ہونے والے پرتشدد آباد کاروں کے حملوں کی مذمت پر مبصرین نے شدید شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اسرائیلی قیادت کی یہ زبانی اور سطحی سطح پر غصے کا اظہار دراصل ایک گہرے اور منظم منصوبے کو چھپانے کا حربہ ہے۔ اس طرح کے بیانات کا مقصد بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنا ہے جبکہ زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعات کسی اچانک ہونے والے اشتعال کا نتیجہ نہیں ہیں بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی، منظم اور بھرپور انداز میں مالی اعانت فراہم کردہ مہم کا حصہ ہیں۔ اس مہم کا بنیادی اور حتمی مقصد فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا اور جغرافیائی حقائق کو یکسر تبدیل کرنا ہے۔ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی توسیع اور ان کو حاصل حکومتی سرپرستی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ریاستی مشینری اس ایجنڈے کے پیچھے پوری طاقت سے کھڑی ہے۔ بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھی جانے والی ان بستیوں کو فروغ دے کر خطے میں امن کی ہر امید کو دم توڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ جب تک عالمی برادری زبانی بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات نہیں کرتی، اس قسم کی منظم کارروائیاں جاری رہیں گی۔ نیتنیاہو کی مذمت کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے جہاں ظاہری بیانات اور عملی اقدامات میں زمین آسمان کا فرق پایا جاتا ہے، اور مقصد صرف وقت کا حصول ہے۔