World
تعلیم یافتہ نوجوان انسانی اسمگلرز کے نشانے پر - نیکسورا نیوز
بین الاقوامی انسانی اسمگلرز اب نوکری کی تلاش میں رہنے والے پڑھے لکھے اور ہنر مند نوجوانوں کو فراڈ کمپاؤنڈز میں بھرتی کر رہے ہیں۔ اس خطرناک رجحان سے نمٹنے اور اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے ہنگامی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
عالمی سطح پر انسانی اسمگلنگ کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے جس کے مطابق اب مجرمانہ گروہ صرف غریب یا کم پڑھے لکھے افراد کو نہیں بلکہ تعلیم یافتہ، ہنر مند اور پرجوش نوجوانوں کو اپنا نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ اسمگلرز نوکری کے پرکشش اور جھوٹے اشتہارات کے ذریعے نوجوانوں کو بیرون ملک نوکری کا لالچ دیتے ہیں اور پھر انہیں فراڈ کمپاؤنڈز میں لے جا کر جبری مشقت یا غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث کر دیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فراڈ نیٹ ورکس تیزی سے پھیل رہے ہیں اور ان کی حکمت عملی انتہائی پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ان اسکیموں کا شکار بننے والے افراد عام طور پر اچھی تعلیم اور پیشہ ورانہ مہارت رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ آسانی سے اسمگلروں کے بنے ہوئے جال میں آ جاتے ہیں۔ نوکری کے متلاشی یہ نوجوان بہتر مستقبل اور کیریئر کی ترقی کی امید میں ان مجرموں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں، جہاں پہنچنے کے بعد ان کے پاسوپورٹ اور دیگر اہم دستاویزات ضبط کر لی جاتی ہیں اور انہیں ڈیجیٹل فراڈ یا دیگر جرائم کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اس صورتحال نے بین الاقوامی سکیورٹی اداروں اور لیبر آرگنائزیشنز کی نیندیں اڑا دی ہیں کیونکہ یہ مسئلہ اب ایک عالمی بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے ماہرین اور عالمی رہنماؤں نے فوری اور سخت اقدامات اٹھانے پر زور دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر وقت پر اس نیٹ ورک کو نہ توڑا گیا تو مزید ہزاروں نوجوان اس تاریک دلدل میں دھکیل دیے جائیں گے۔ حکومتوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ روزگار کے نام پر دھوکہ دینے والی ایجنسیوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کریں اور نوجوانوں میں اس حوالے سے شعور اجاگر کریں تاکہ وہ بیرون ملک ملازمت کے نام پر ہونے والے فراڈ سے محفوظ رہ سکیں۔
اس ضمن میں نوجوان نسل کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بیرون ملک ملازمت کے حصول کے دوران انتہائی احتیاط برتیں اور کسی بھی پیشکش کو قبول کرنے سے پہلے کمپنی اور ویزا کی مصدقہ جانچ پڑتال ضرور کریں۔ والدین اور تعلیمی اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ طلبا کو اس طرح کے دھوکہ باز نیٹ ورکس کے بارے میں آگاہ کریں تاکہ وہ اپنی محنت اور صلاحیتوں کو کسی غیر قانونی سرگرمی کا حصہ بننے سے بچا سکیں۔