World
روہنگیا مہاجرین کا بحران، امداد میں کمی اور یو این ایچ سی آر کی وارننگ
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے بنگلہ دیش میں نمائندے ایوو فرائسن نے خبردار کیا ہے کہ روہنگیا مہاجرین کے لیے امداد میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے کیمپوں میں رہنے والے مہاجرین میں ناامیدی بڑھتی جا رہی ہے اور ان کا مستقبل تاریک دکھائی دے رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے بنگلہ دیش میں نمائندے ایوو فرائسن نے خبردار کیا ہے کہ روہنگیا مہاجرین کے لیے بین الاقوامی امداد میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔ امداد کے یہ فنڈز کم ہونے کی وجہ سے کیمپوں میں زندگی گزارنے والے لاکھوں روہنگیا مہاجرین کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے اور ان کے اندر امید کی کرن مدہم پڑتی جا رہی ہے۔
بنگلہ دیش کے ساحلی علاقوں میں قائم ان پناہ گزین کیمپوں میں سالوں سے لاکھوں روہنگیا افراد کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ مہاجرین بنیادی طور پر بین الاقوامی امداد، خوراک کے راشن اور طبی امداد پر انحصار کرتے ہیں۔ تاہم، عالمی سطح پر فنڈنگ میں کمی کے باعث اب امدادی اداروں کے لیے تمام ضروری سہولیات فراہم کرنا انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے، جس کے اثرات براہ راست ان مظلوم انسانوں پر پڑ رہے ہیں۔
یو این ایچ سی آر کے حکام نے عالمی برادری اور عطیہ دہندگان سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اس انسانی بحران کو نظر انداز نہ کریں۔ ایوو فرائسن کے مطابق اگر بروقت مالی معاونت فراہم نہ کی گئی تو خوراک، صحت اور تعلیم کے شعبے میں بحران مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔ روہنگیا پناہ گزینوں کا مستقبل پہلے ہی غیر یقینی کا شکار ہے اور امداد کی فراہمی رکنے سے ان کی امیدیں بھی دم توڑ رہی ہیں۔