World
نیپال سیلاب: دھادنگ میں کیچڑ تلے لاشیں دبے ہونے کا خدشہ
نیپال کے علاقے دھادنگ میں سیلاب سے تباہ کاریاں جاری ہیں جہاں کے مکینوں کو خدشہ ہے کہ موٹی کیچڑ کے نیچے اب بھی کئی لاشیں دبی ہوئی ہیں۔ مقامی افراد نے حکام سے امدادی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
نیپال کے ضلع دھادنگ میں حال ہی میں آنے والے تباہ کن سیلاب اور بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال انتہائی تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔ سیلاب اور زمین کاٹنے کے اس واقعے نے پورے علاقے کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے، جس سے نہ صرف بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوا بلکہ انسانی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔ اب متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے انتہائی تشویشناک انکشاف کیا ہے کہ انہیں خدشہ ہے کہ موٹی کیچڑ کی تہوں کے نیچے اب بھی متعدد افراد کی لاشیں دبی ہو سکتی ہیں جنہیں تاحال نکالا نہیں جا سکا ہے۔
مقامی رہائشیوں اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ تباہی کا یہ عالم ہے کہ کئی مقامات پر کئی فٹ موٹی کیچڑ جمع ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو گزرنے اور زمین کی کھدائی کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متاثرہ خاندانوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھاری مشینری اور جدید آلات کا استعمال کرتے ہوئے اس ملبے اور کیچڑ کو ہٹانے کا کام تیز کریں تاکہ لاپتہ افراد کی تلاش کا عمل مکمل کیا جا سکے اور ان کے لواحقین کو کسی حد تک ذہنی سکون مل سکے۔
دوسری جانب، ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کا کہنا ہے کہ وہ انتہائی کٹھن حالات میں بھی امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ البتہ، مواصلاتی نظام کے درہم برہم ہونے اور راستے بند ہونے کی وجہ سے دور دراز کے علاقوں تک فوری طور پر امداد پہنچانا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ حکام نے یقین دلایا ہے کہ جیسے ہی حالات مکمل طور پر قابو میں آتے ہیں اور راستے بحال ہوتے ہیں، لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا جائے گا۔
اس المیے نے ایک بار پھر موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے نیپال کی تیاریوں پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں غیر منصوبہ بند ترقی اور جنگلات کی کٹائی نے ان سیلابوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ نہ صرف فوری طور پر متاثرین کو امداد اور پناہ فراہم کی جائے بلکہ مستقبل میں اس طرح کی تباہ کاریوں سے بچنے کے لیے ایک جامع اور پائیدار لائحہ عمل بھی تیار کیا جائے۔