World
آسٹریلیا میں اسرائیلی فوجیوں کے ویزے اور باسم یوسف کا تنازع
آسٹریلوی حکومت اس بات کی وضاحت دینے کے لیے شدید دباؤ کا شکار ہے کہ اس نے دجنوں اسرائیلی فوجیوں کو ملک میں داخلے کی اجازت کیوں دی۔ دوسری جانب، مصری کامیڈین باسم یوسف کو مبینہ طور پر ویزا جاری نہ کیے جانے پر حکومت کو عوامی سطح پر تنقید کا سامنا ہے۔
آسٹریلوی حکومت کو اس وقت ملک کے اندر اور باہر شدید عوامی و سیاسی دباؤ کا سامنا ہے جب یہ انکشاف ہوا کہ درجنوں اسرائیلی فوجیوں کو آسٹریلیا کا سفر کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس فیصلے نے انسانی حقوق کے کارکنوں اور عام شہریوں میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے، جو حکومت سے اس دوہرے معیار پر وضاحت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب غزہ اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال انتہائی حساس ہے، اسرائیلی فوجیوں کو ویزے جاری کرنا آسٹریلوی خارجہ پالیسی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ دوسری جانب، معروف مصری کامیڈین اور ٹی وی میزبان باسم یوسف کے معاملے نے اس بحث کو مزید ہوا دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، باسم یوسف کو آسٹریلیا آنے کے لیے مبینہ طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا یا ویزا کے حصول میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، جس پر سوشل میڈیا اور سیاسیحلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ عوام اور مختلف تنظیمیں حکومت سے یہ جاننا چاہتی ہیں کہ آخر کن بنیادوں پر ایک معروف پرامن فنکار کو نظر انداز کیا گیا جبکہ مبینہ طور پر تنازعات میں ملوث فوجیوں کو ملک میں داخلے کی کھੁੱلی چھٹی دی گئی۔ آسٹریلوی حکام کی جانب سے اس پورے تنازع پر اب تک کوئی تسلی بخش موقف سامنے نہیں آیا ہے، تاہم اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمنٹ میں اس معاملے کو اٹھانے کا عندیہ دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال موجودہ حکومت کے لیے سفارتی اور سیاسی دونوں محاذوں پر ایک بڑا امتحان بن چکی ہے اور آنے والے دنوں میں اس پر مزید بحث متوقع ہے۔