LIVE
Loading Breaking News...

سنیسٹھیسیا اور ناموں کا ذائقہ: ایک انوکھی سائنسی حقیقت

News Image
سائنس کی دنیا میں synaesthesia ایک ایسا حیرت انگیز مظہر ہے جہاں کچھ افراد الفاظ یا ناموں کو مخصوص ذائقوں کے طور پر محسوس کرتے ہیں۔ یہ انوکھا تجربہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ مختلف انسان ایک ہی دنیا کو کتنے مختلف طریقوں سے محسوس کرتے ہیں۔
انسانی دماغ اور اس کے حواس کی دنیا ہمیشہ سے سائنسدانوں کے لیے ایک پرسرار موضوع رہی ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کسی کا نام سن کر آپ کو منہ میں کوئی خاص ذائقہ محسوس ہو؟ سننے میں یہ بات کسی فکشن یا سائنس فکشن ناول کا حصہ لگتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک سائنسی طور پر تسلیم شدہ حالت ہے جسے 'سنیسٹھیسیا' (Synaesthesia) کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی نیولوجیکل حالت ہے جس میں حواس آپس میں گڈمڈ ہو جاتے ہیں، یعنی ایک حِس کا تجربہ دوسری حس کو متحرک کر دیتا ہے۔ مثال کے طور پر، کچھ افراد کے لیے الفاظ، نمبرز یا لوگوں کے نام صرف بصری الفاظ نہیں ہوتے بلکہ وہ انہیں باقاعدہ کسی ذائقے، خوشبو یا رنگ کی صورت میں محسوس کرتے ہیں۔ اس انوکھے رجحان پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ سنیسٹھیسیا کے شکار افراد جب کسی کا نام سنتے ہیں یا پڑھتے ہیں، تو ان کے دماغ کا وہ حصہ جو ذائقے کی پروسیسنگ کرتا ہے، وہ بھی متحرک ہو جاتا ہے۔ کسی کو کسی کا نام نمکین محسوس ہو سکتا ہے تو کسی کو ترش یا میٹھا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانی دماغ بیرونی دنیا کو کتنی مختلف تہوں میں دیکھ اور محسوس کرتا ہے۔ عام انسانوں کے لیے ایک لفظ محض ایک آواز یا تحریر ہوتی ہے، لیکن سنیسٹھیسیا کے حاملین کے لیے وہ ایک بھرپور حسی تجربہ بن جاتا ہے جس میں ذائقہ اور احساسات شامل ہوتے ہیں۔ اس قسم کے غیر معمولی تجربات ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ انسانی ادراک کی کوئی ایک طے شدہ اور یکساں تعریف نہیں ہے۔ ہر فرد اس دنیا کو اپنے دماغی اور عصبی نظام کے تحت ایک انفرادی طریقے سے دیکھتا اور پرکھتا ہے۔ اگرچہ یہ حالت کسی بیماری یا طبی نقص کی علامت نہیں ہے، بلکہ یہ دماغ کے اندرونی عصبوں کی ایک منفرد ہندسہ بندی ہے، لیکن عام لوگوں کے لیے یہ بات انتہائی دلچسپ اور حیران کن ہے۔ ماہرینِ نفسیات اور نیورو سائنسدان اب اس بات پر تحقیق کر رہے ہیں کہ آیا یہ صلاحیت پیدائشی ہوتی ہے یا وقت کے ساتھ دماغ میں بننے والے ربط کا نتیجہ ہے، تاکہ انسانی شعور کے مزید راز فاش کیے جا سکیں۔