LIVE
Loading Breaking News...

بنک مصر پر امریکی پابندیاں، مکمل تفصیلات اور پس منظر

News Image
مصر کے دوسرے بڑے مالیاتی ادارے بنک مصر کو امریکہ کی جانب سے نئی اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے یہ اقدام ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی جاری کوششوں کا حصہ ہے۔
مصر کا دوسرا سب سے بڑا مالیاتی ادارہ 'بنک مصر' حال ہی میں امریکی پابندیوں کی زد میں آ گیا ہے، جس نے خطے کے مالیاتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ یہ اہم پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن انتظامیہ نے ایران پر اقتصادی دباؤ کو مزید سخت کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام کا مقصد تہران کو خطے میں اپنی پالیسیاں تبدیل کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اس نئے اضافے کی بڑی وجہ جاری سفارتی ڈیڈلاک اور جنگ بندی کے مذاکرات میں تعطل ہے۔ واشنگٹن کا ماننا ہے کہ ایران پر مالیاتی دباؤ بڑھانے سے اسے مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت بین الاقوامی سطح پر ان اداروں اور بنکوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو مبینہ طور پر تہران کے ساتھ مالی لین دین یا تعاون میں ملوث ہیں۔ بنک مصر کے خلاف عائد کی جانے والی ان پابندیوں کے نتیجے میں ادارے کے بین الاقوامی تجارتی معاملات اور غیر ملکی بنکوں کے ساتھ تعلقات متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ مصری معاشی ماہرین صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اس بات کا تخمینہ لگایا جا سکے کہ اس پابندی کا ملکی معیشت اور دیگر تجارتی اداروں پر کیا اثر پڑے گا۔ ابھی تک بنک مصر یا مصری حکام کی جانب سے ان پابندیوں کے طویل المدتی اثرات پر کوئی باضابطہ اور تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں اس خبر کو انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید سفارتی رابطے متوقع ہیں تاکہ معاشی بحران کو مزید گہرا ہونے سے روکا جا سکے۔