World
ایران کے سپریم لیڈر کا مسلم دنیا کو امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اتحاد کا پیغام
ایران کے سپریم لیڈر نے خلیجی ممالک کے حکمرانوں کو خط لکھ کر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف متحدہ حکمت عملی اپنانے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے خطے کے حقیقی دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلامی دنیا کے اتحاد کو ناگزیر قرار دیا ہے۔
تہران: ایران کے سپریم لیڈر نے خلیجی ریاستوں اور مسلم ممالک کے حکمرانوں کو ایک تحریری پیغام جاری کیا ہے جس میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف بھرپور مسلم اتحاد کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق تہران کی جانب سے یہ اہم سفارتی قدم خطے میں جاری کشیدگی اور جنگ کے چھ ماہ مکمل ہونے کے موقع پر اٹھایا گیا ہے جب تنازع کے خاتمے کے کوئی واضح آثار دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ ایران کے اعلیٰ ترین مقام سے جاری ہونے والے اس پیغام کا مقصد مشرق وسطیٰ کے ممالک کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانا اور بیرونی دباؤ کے خلاف دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔
پیغام میں خلیجی حکمرانوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے باہمی اختلافات کو پس پشت ڈال دیں اور اس قوت کا مقابلہ کریں جسے تہران خطے کا اصل دشمن قرار دیتا ہے۔ ایرانی قیادت کا مؤقف ہے کہ خطے میں پائیدار امن اسی صورت میں ممکن ہے جب بیرونی بالادستی بالخصوص امریکی اور اسرائیلی اثر و رسوخ کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے اور اسلامی ممالک اپنے معاملات خود طے کریں۔ اس تناظر میں تجارتی امور اور معاشی پالیسیوں پر بھی نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاکہ ڈالر پر انحصار کم کیا جا سکے۔
دوسری جانب، مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کو چھ ماہ گزر چکے ہیں اور انسانی بحرین میں مسلسل شدت آ رہی ہے۔ عالمی برادری اور مبصرین اس پیشرفت کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ خلیج کے ممالک کے ساتھ تہران کے تعلقات میں حالیہ عرصے میں بہتری کے آثار نمایاں ہوئے ہیں۔ سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر خلیجی ممالک اس دعوت پر مثبت ردعمل ظاہر کرتے ہیں تو خطے کی سلامتی اور معاشی صورتحال پر اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جو آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ کی سیاست کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔