World
ہمالیہ گلیشیئر المیہ: ہلاکتیں 800 کے قریب، تبت میں امدادی کام تیز
ہمالیہ کے علاقے میں گلیشیئر کے منہدم ہونے اور اس کے نتیجے میں آنے والے سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد آٹھ سو کے قریب پہنچ گئی ہے۔ تبت کے سیلاب میں تیئیس ممالک کے سیکڑوں غیر ملکی تاحال لاپتہ ہیں جبکہ مواصلاتی نظام کی بحالی کے لیے بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ہمالیہ کے خطے میں رونما ہونے والے ایک ہولناک قدرتی واقعے کے بعد صورتحال انتہائی تشویشناک ہوتی جا رہی ہے جہاں گلیشیئر کے منہدم ہونے کے نتیجے میں اموات کی تعداد آٹھ سو کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اس المناک واقعے کے بعد دنیا بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور متاثرہ علاقوں میں انسانی جانوں کو بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ چینی حکام کے مطابق تبت میں آنے والے شدید سیلاب کے بعد تیئیس مختلف ممالک کے دو سو اکسٹھ غیر ملکی شہری بھی لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیمیں دن رات کام کر رہی ہیں۔ سیلابی ریلوں اور مٹی کے تودے گرنے سے اس خطے کا بنیادی ڈھانچہ بری طرح تباہ ہو چکا ہے جس کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق گییرونگ کے علاقے میں مڈ سلائیڈ سے متاثر ہونے والے مواصلاتی انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے کل کوششیں جاری ہیں۔ ماہرین اور انجینئرز کی ٹیمیں دن رات ایک کر کے رابط بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ امدادی سامان اور طبی ٹیمیں متاثرہ علاقوں کے اندرونی حصوں تک بروقت پہنچ سکیں۔ دوسری جانب خطے میں ایک اور جھیل کے پھٹنے کا خطرہ فی الحال کم ہو گیا ہے جس نے مقامی انتظامیہ اور امدادی کارکنوں کو کچھ حد تک ریلیف فراہم کیا ہے تاہم حکام نے انتہائی چوکسی کا مظاہرہ جاری رکھا ہوا ہے۔ چین نے اس حادثے کے بعد تبت کے سطح مرتفع پر موسمیاتی نگرانی کے نظام کو مزید بہتر اور مربوط بنا دیا ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی ناگہانی آفت یا موسم کی شدید تبدیلی کا وقت پر ادراک کیا جا سکے۔ عالمی برادری نے بھی اس سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی ہے۔