LIVE
Loading Breaking News...

معروف صحافی اور بائیں بازو کے رہنما امین مغل انتقال کر گئے

News Image
پاکستان کے معروف بائیں بازو کے رہنما، دانشور اور سینئر صحافی امین مغل انتقال کر گئے ہیں۔ ملکی اور بین الاقوامی میڈیا نے انہیں اختلاف رائے کا احترام سکھانے والی ایک توانا آواز کے طور پر یاد کیا ہے۔
پاکستان کے بائیں بازو کی سیاست، فکری مباحث اور صحافت کے نمایاں ستون امین مغل اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ برطانوی اخبار دی گارڈین سمیت پاکستان کے مؤقر انگریزی روزناموں 'دی نیوز' اور 'ڈان' نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ایک ایسے مدبر کے طور پر یاد کیا ہے جنہوں نے پاکستان کی بائیں بازو کی تحریک اور میڈیا کو اختلاف رائے کا بہترین سلیقہ سکھایا۔ وہ اس نظریاتی روایت کے امین تھے جہاں مخالفت کے باوجود ذاتی تعلقات اور باہمی احترام کو برقرار رکھا جاتا تھا۔ امین مغل کی پوری زندگی فکری جدوجہد، سیاسی جلاوطنی کے کٹھن تجربات اور حق گوئی کی داستان ہے۔ انہوں نے مشکل ترین حالات میں بھی اپنے مؤقف سے انحراف نہیں کیا اور ہمیشہ جمہوریت، رواداری اور مزدوروں کے حقوق کی بات کی۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ 'آخری موہیکن' کی طرح تھے جو بائیں بازو کی روایتی سیاست اور فکری بنیادوں کے ساتھ جڑے رہے۔ ان کے دوست اور رفقائے کار انہیں ایک شفیق استاد، نڈر صحافی اور گہرے نظریاتی بصیرت رکھنے والے انسان کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ ملکی سطح پر ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے مختلف حلقوں کا کہنا ہے کہ امین مغل نے نئی نسل کے صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کو یہ سکھایا کہ کس طرح دلیل کے ساتھ اختلاف کیا جاتا ہے بغیر اس کے کہ انسانی رشتے ٹوٹ جائیں۔ ان کا انتقال نہ صرف پاکستان کے بائیں بازو کے حلقوں بلکہ مجموعی طور پر فکری و صحافی برادری کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ ان کے جانے سے ایک ایسا عہد ختم ہو گیا جو سیاسی پختگی، برداشت اور نظریاتی وابستگی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ مختلف اخبارات اور تحقیقی مضامین میں امین مغل کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ ان کے فکری افکار اور روشن خیالی کے نقوش ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ ان کے چاہنے والے، ساتھی اور شاگرد اس بات پر متفق ہیں کہ ان کی جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی، جو انہیں ہمیشہ ایک سچے فکری رہنما کے طور پر یاد رکھیں گے۔