World
قبل از وقت رہا ہونے والے قیدیوں کی جیل واپسی پر برطانوی حکام کی تشویش
برطانوی گورنرز نے انکشاف کیا ہے کہ قبل از وقت رہا ہونے والے قیدی تیزی سے دوبارہ جیلوں میں واپس آ رہے ہیں۔ وزیر اعظم اینڈ برہم نے اعلان کیا ہے کہ اکتوبر میں شروع ہونے والی اسکیم میں تبدیلی کی گئی ہے تاکہ پی سی ہارپر کے قاتل جیل میں رہیں۔
برطانیہ میں قیدیوں کی قبل از وقت رہائی کے پروگرام کے حوالے سے تشویشناک اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ جیلوں کے گورنرز نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جو قیدی اپنی سزا پوری ہونے سے پہلے ہی رہا کر دیے گئے ہیں، ان کی ایک بڑی تعداد تیزی سے جرائم کی دنیا میں واپس آ رہی ہے اور وہ دوبارہ جیلوں کا رخ کر رہی ہے۔ اس صورتحال نے ملک کے انصاف کے نظام اور سکیورٹی پر بڑے سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ قبل از وقت رہائی کے دوران قیدیوں کی مناسب مانیٹرنگ اور بحالی کے پروگراموں کا فقدان اس تشویشناک رجحان کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔ اس تمام صورتحال کے پیش نظر حکومت پر شدید دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ جیلوں کے نظام اور پالیسیوں میں فوری طور پر اصلاحات نافذ کرے۔ اسی پس منظر میں وزیر اعظم اینڈ برہم نے اتوار کے روز اعلان کیا ہے کہ اکتوبر میں شروع ہونے والی آئندہ قبل از وقت رہائی کی اسکیم میں اہم تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔ ان نئی تبدیلیوں کا بنیادی مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ خطرناک اور سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کو اس نرمی کا فائدہ نہ مل سکے۔ وزیراعظم نے خاص طور پر اس بات کی وضاحت کی کہ پولیس کانسٹیبل پی سی ہارپر کے قاتل اس نئی اسکیم کے تحت جیل سے باہر نہیں آ سکیں گے اور وہ اپنی پوری سزا سلاخوں کے پیچھے ہی کاٹیں گے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ عوامی تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے جیلوں کے قوانین میں مزید سختی لائی جا رہی ہے۔ دوسری جانب، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اپوزیشن جماعتیں اس معاملے پر حکومت سے مزید وضاحت اور جامع حکمت عملی کا مطالبہ کر رہی ہیں تاکہ جیلوں میں بڑھتی ہوئی گنجائش کے مسئلے کو مجرموں کی قبل از وقت رہائی کے بغیر حل کیا جا سکے۔