LIVE
Loading Breaking News...

سویڈن میں انتہائی دائیں بازو کی تارکین وطن مخالف مہم

News Image
سویڈن کی ایک انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت نے ملک کے سب سے بڑے ریلوے اسٹیشن پر اشتہاری جگہ حاصل کر کے تارکین وطن کے خلاف ایک متنازع مہم شروع کی ہے۔ اس مہم کے بعد ملک میں سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔
سویڈن میں ایک انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت نے، جس کی جڑیں نازی ازم سے جڑی ہوئی ہیں، ملک کے سب سے بڑے ریلوے اسٹیشن کے تمام اشتہاری بورڈز خرید کر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ اس مہم کا مقصد تارکین وطن کو نشانہ بنانا اور عوامی جذبات کو اپنے حق میں کرنا ہے۔ سویڈن جیسے ترقی یافتہ اور رواداری کے لیے مشہور ملک میں اس قسم کی جارحانہ اشتہاری مہم نے سیاسی اور سماجی حلقوں میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات معاشرے میں نفرت اور تقسیم کو بڑھاوا دیتے ہیں جبکہ اس کے حامی اسے آزادی اظہار کا نام دے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ رجحان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ یورپ بھر میں دائیں بازو کی سیاست تیزی سے جڑیں پکڑ رہی ہے اور وہ عوامی مقامات اور ذرائع ابلاغ کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے۔ تارکین وطن کے حوالے سے اٹھنے والے ان سوالات نے سویڈن کی روایتی لبرل اقدار کو بھی ایک بڑے چاہے سے دوچار کر دیا ہے۔ دوسری جانب، انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے اس مہم کی شدید مذمت کی ہے اور حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ نفرت انگیز پروپیگنڈے کو روکنے کے لیے سخت قوانین بنائے جائیں۔ ریلوے اسٹیشن پر نظر آنے والے ان اشتہارات نے روزانہ سفر کرنے والے ہزاروں مسافروں کو بھی متوجہ کیا ہے، جن میں سے اکثر نے اس مہم کو شرمناک اور غیر ضروری قرار دیا ہے۔ سویڈن کی یہ صورتحال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مغربی ممالک میں تارکین وطن کا مسئلہ کس قدر حساس اور سیاسی طور پر اہم بن چکا ہے، جہاں ہر آنے والا دن نئے تنازعات کو جنم دے رہا ہے۔