LIVE
Loading Breaking News...

نکولس مادورو کی امریکی تحویل میں پہلی تصاویر سامنے آئیں

News Image
وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کی امریکی تحویل سے جنوری میں اغوا کے بعد پہلی بار تصاویر جاری کی گئی ہیں۔ ان تصاویر کے سامنے آنے کے بعد بین الاقوامی سطح پر سیاسی ہلچل اور سفارتی تبصروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کی جنوری میں مبینہ طور پر اغوا کیے جانے کے بعد امریکی تحویل سے پہلی تصاویر منظر عام پر آ گئی ہیں۔ ان تصاویر کے جاری ہونے کے بعد بین الاقوامی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں ایک بار پھر گرما گرم بحث شروع ہو گئی ہے کیونکہ اس پورے معاملے کو لے کر عالمی سطح پر پہلے ہی شدید ردعمل پایا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ نکولس مادورو کو جنوری کے مہینے میں ان کی رہائش گاہ یا صدارتی منصب کے دوران امریکی کارروائی کے نتیجے میں تحویل میں لیا گیا تھا، جس کے بعد سے وہ سخت سکیورٹی میں امریکہ کے اندر نامعلوم مقام پر موجود ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، یہ تصاویر ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکی حکام کی جانب سے ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی اور تحقیقات کا عمل جاری ہے۔ امریکی محکمہ انصاف اور دیگر متعلقہ اداروں کی طرف سے ابھی تک ان تصاویر کی اشاعت پر کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے ان کی تصدیق کی ہے۔ ان تصاویر میں نکولس مادورو کو حفاظتی حصار میں دیکھا جا سکتا ہے، جس سے ان کی موجودہ جسمانی حالت اور امریکی حراست میں ان کے حالاتِ زندگی پر سے کچھ پردہ اٹھتا ہے۔ وینزویلا کی حکومت اور نکولس مادورو کے حامیوں نے ان تصاویر کے جاری ہونے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور اسے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ دوسری جانب، واشنگٹن میں موجود حکام کا موقف ہے کہ یہ کارروائی قانون کے دائرے میں رہ کر کی گئی ہے اور مادورو کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ اس تازہ ترین پیش رفت نے لاطینی امریکہ اور امریکہ کے تعلقات کو مزید کشیدہ کر دیا ہے جبکہ اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس پورے معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔