LIVE
Loading Breaking News...

ناسا کی رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ لانچ، کائنات کے راز کھلیں گے

News Image
ناسا نے کائنات کی تاریک توانائی اور تاریک مادے کے اسرار و رموز سے پردہ اٹھانے کے لیے اسپیس ایکس فالکن ہیوی راکٹ کے ذریعے رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ خلا میں روانہ کر دی ہے۔ اس خلائی پروجیکٹ کی کل لاگت چار اعشاریہ تین ارب ڈالر ہے۔
امریکی خلائی ادارے ناسا نے کائنات کے پوشیدہ رازوں سے پردہ اٹھانے اور اس کی وسعتوں کو سمجھنے کی جانب ایک بہت بڑا قدم اٹھاتے ہوئے 4.3 ارب ڈالر مالیت کی نینسی گ्रेस رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ کو کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ کر دیا۔ اس تاریخی مشن کو اسپیس ایکس کے طاقتور فالکن ہیوی راکٹ کے ذریعے زمین کے مدار میں پہنچایا گیا ہے۔ یہ جدید ترین ٹیلی اسکوپ خلا میں جا کر کائنات کے انوکھے اور گہرے اسرار و رموز کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ اس لانچ کو خلائی تحقیق کی تاریخ میں ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے فلکیات کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ اس عظیم الشان خلائی مشن کا بنیادی مقصد کائنات میں موجود تاریک توانائی اور تاریک مادے کے بارے میں درست معلومات حاصل کرنا ہے۔ تاریک توانائی اور تاریک مادہ کائنات کا سب سے بڑا معمہ بنے ہوئے ہیں، جن کی حقیقت کو جاننے کے لیے سائنسدان پچھلی کئی دہائیوں سے کوشش کر رہے ہیں۔ رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ اپنی جدید ترین سائنسی آلات اور طاقتور کیمروں کی مدد سے کہکشاؤں کی تشکیل، ارتقا اور کائنات کے پھیلاؤ کی رفتار کا انتہائی باریک بینی سے مشاہدہ کرے گی۔ اس دوربین کی مدد سے خلا میں ہونے والی دور دراز کی تبدیلیوں کا بھی باآسانی مطالعہ کیا جا سکے گا۔ ناسا کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ ٹیلی اسکوپ پچھلی تمام خلائی دوربینوں کے مقابلے میں بہت زیادہ وسیع رقبے کی تصاویر اور ڈیٹا فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس پروجیکٹ کے ذریعے کہکشاؤں کے پھیلاؤ، ستارے کی زندگی اور دیگر خلائی مظاہر کے بارے میں بے شمار نئے انکشافات متوقع ہیں۔ خلائی سائنس میں دلچسپی رکھنے والے ماہرین کے لیے یہ مشن نئی راہیں کھولے گا اور دنیا بھر کے محققین کو کائنات کی ابتدا اور انجام کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کرے گا۔