LIVE
Loading Breaking News...

ڈونلڈ ٹرمپ کی صحافی کرسٹن ویلکر کے خلاف کارروائی کی دھمکی

News Image
ڈونلڈ ٹرمپ نے معروف صحافی کرسٹن ویلکر کو براڈکاسٹ ریگولیٹر کے پاس رپورٹ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد خبر رساں اداروں پر دباؤ بڑھانا اور مبینہ طور پر فرضی خبریں نشر کرنے پر کارروائی کرنا ہے۔
امریکی سیاست میں ایک بار پھر میڈیا اور سیاستدانوں کے درمیان محاذ آرائی شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ نو منتخب صدر یا سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معروف امریکی صحافی اور میزبان کرسٹن ویلکر کو براڈکاسٹ ریگولیٹر کے پاس باضابطہ طور پر رپورٹ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اس تازہ ترین تنازع نے امریکی میڈیا انڈسٹری میں ہلچل مچا دی ہے اور صحافتی آزادی کے حوالے سے بحث ایک بار پھر چھڑ گئی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ طویل عرصے سے بعض خبر رساں اداروں پر ان کے خلاف جانبدارانہ رویہ رکھنے اور فرضی خبریں پھیلانے کا الزام عائد کرتے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن (FCC) پہلے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت اور ان کے حامیوں کی نظر میں ایسے خبر رساں اداروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتا رہا ہے جنہیں وہ 'فیک نیوز' پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ اس ادارے کا کام ملک بھر میں مواصلاتی اور نشریاتی اداروں کے قوانین کا نفاذ کرنا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں اس کے سیاسی استعمال پر بھی سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ ٹرمپ کا تازہ ترین بیان اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ اپنے حریف میڈیا ہاؤسز اور صحافیوں کے خلاف سخت گیر پالیسی جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ صحافتی تنظیموں اور آزادیِ صحافت کے حامیوں نے اس قسم کے بیانات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی دھمکیاں آزادانہ صحافت پر براہِ راست حملہ ہیں اور اس سے میڈیا کے اندر سنسرشپ کا ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف، ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کا موقف ہے کہ میڈیا کو بھی اپنے فیصلوں اور خبروں میں شفافیت لانی چاہیے اور غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کو یقینی بنانا چاہئے۔ آنے والے دنوں میں اس تنازع کے مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے کیونکہ میڈیا اور سیاسی قیادت کے درمیان کشمکش کم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔