Business
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تین ارب ڈالر کی زرعی برآمدات کا معاہدہ
پاکستان اور سعودی عرب نے دوطرفہ زرعی اور غذایی برآمدات کو اگلے دو سالوں میں تین ارب ڈالر تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت سعودی وفد کے دورہِ پاکستان کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف کی خصوصی دلچسپی سے ممکن ہوئی۔
اسلام آباد اور ریاض نے پاکستان کی زرعی اور غذایی برآمدات کو سعودی عرب کے لیے بڑھا کر تین ارب ڈالر تک پہنچانے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اتوار کو جاری ہونے والے ایک مشترکہ اعلامیے کے مطابق یہ اہم فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر سعودی وزارتِ زراعت اور وزارتِ غذایی تحفظ کے درمیان کامیاب مذاکرات کے نتیجے میں طے پایا ہے۔ سعودی عرب کے وزیرِ ماحول، پانی و زراعت انجینئر عبدالرحمان الفدلی کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی سعودی وفد نے حالیہ دنوں میں پاکستان کا دورہ کیا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ مشترکہ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے اگلے دو سالوں کے دوران اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، جس کے تحت چاول، سرخ گوشت، پھلوں اور ان کے غراز، سبز چارہ اور پانی کی بچت کرنے والی زرعی ٹیکنالوجیز کو ترجیحی شعبوں کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ دورے کے دوران سعودی وفد نے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC)، فوجی فاؤنڈیشن اور پاکستان سعودی عرب ایگری بزنس فورم کے اجلاسوں میں شرکت کی اور نیشنل ایگریکلচার ریسرچ سینٹر کا دورہ بھی کیا۔ سعودی عرب کے وژن 2030 کے تحت غذایی تحفظ کی ترجیحات اور پاکستان کے زرعی شعبے میں گہری مطابقت پائی جاتی ہے۔ گزشتہ برس پاکستان نے سعودی مارکیٹ کو تقریباً ایک لاکھ انہتر ہزار ٹن چاول فراہم کیے تھے جبکہ سرخ گوشت اور پھلوں کی برآمدات کو بھی بتدریج دوگنا کرنے کے امکانات پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، پنجاب کے علاقے بھکر میں پانی کی بچت کے آبپاشی پروگرام کے پہلے مرحلے کی تکمیل کا خیرمقدم کیا گیا اور چھوٹے کسانوں کے لیے اس کے دوسرے مرحلے پر بھی غور کیا گیا۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر برائے قومی غذایی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کی جبکہ سعودی وفد نے پاکستان کو ریاض میں ہونے والی تئیسویں سعودی زرعی نمائش میں شرکت کی دعوت بھی دی۔ دونوں ممالک نے اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے اور طے پانے والے تمام امور کو عملی جامہ پہنانے کے لیے باہمی رابطہ کاری جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔