Pakistan
وزیراعظم کا اصلاحاتی ایجنڈا اور معاشی استحکام پاکستان
وزیراعظم پاکستان کا کہنا ہے کہ معیشت کو مستحکم کرنے اور ملک میں پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لیے جامع اصلاحاتی ایجنڈے پر سختی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں عالمی بینک کی تجاویز کا جائزہ لینے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔
اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ موجودہ حکومت ملک میں معاشی استحکام اور طویل المدتی پائیدار ترقی کے حصول کے لیے ایک جامع اصلاحاتی ایجنڈے پر پوری قوت سے عمل پیرا ہے۔ سرکاری میڈیا اور خبر رساں اداروں کے مطابق حکومتی سطح پر ملکی معیشت کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ساختیاتی اصلاحات کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے تاکہ ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالا جا سکے۔ اس ضمن میں تمام متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ اصلاحاتی عمل میں تیزی لائیں اور معاشی بہتری کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ معاشی ماہرین کا بھی یہی ماننا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو طویل المعادد بنیادوں پر مضبوط کرنے کے لیے گہرے ساختیاتی اقدامات کی اشد ضرورت ہے تاکہ کاروباری ماحول کو بہتر بنایا جا سکے اور ملکی برآمدات میں اضافہ ہو سکے۔ دوسری جانب، عالمی بینک کی جانب سے مالیاتی وفاقیت اور معاشی امور سے متعلق تجاویز سامنے آئی ہیں جن کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعظم نے ان سفارشات کا تفصیلی جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ یہ کمیٹی عالمی بینک کی رپورٹ کا بغور جائزہ لے کر اپنی سفارشات پیش کرے گی تاکہ ان کی روشنی میں ملکی پالیسیوں کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ حکومت کا یہ ماننا ہے کہ ملک میں سرمایہ کاری کا فروغ، ٹیکس نظام میں اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط ہی وہ بنیادی ستون ہیں جن پر مضبوط معیشت کی عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ عوام کی فلاح و بہبود اور ملک کی اقتصادی خودمختاری کے لیے سخت فیصلے بھی کیے جائیں گے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک مستحکم معیشت چھوڑی جا سکے۔ حکومت کے ان اقدامات کو ملکی و بین الاقوامی سطح پر معاشی مبصرین کی جانب سے سراہا جا رہا ہے، تاہم اس بات پر بھی زور دیا جا رہا ہے کہ ان اصلاحات کے نفاذ میں شفافیت اور تسلسل کو برقرار رکھنا کامیابی کے لیے سب سے اہم ہے۔