LIVE
Loading Breaking News...

شمالی قبرص کشتی حادثہ: 8 جاں بحق، کپتان گرفتار

News Image
شمالی قبرص کے ساحل کے قریب مسافر بردار کشتی الٹنے کے حادثے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک جبکہ ایک درجن سے زائد لاپتہ ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق کشتی پر کل 267 افراد سوار تھے جن میں سے اکثریت کو بچا لیا گیا ہے جبکہ کپتان سمیت عملے کے آٹھ ارکان کو حتحراست میں لے لیا گیا ہے۔
شمالی قبرص کے ساحل سمندر کے قریب ایک مسافر بردار کشتی الٹنے اور ڈوبنے کے واقعے میں کم از کم آٹھ افراد جاں بحق جبکہ ایک درجن سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ حکام اور میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ المناک واقعہ اتوار کے روز پیش آیا جب کشتی ساحل سے روانہ ہو کر ترکیہ کے مین لینڈ کی طرف جا رہی تھی۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اداروں نے فوری طور پر کارروائی کا آغاز کیا اور اب تک بڑی تعداد میں مسافروں کو زندہ بچا لیا گیا ہے جنہیں طبی امداد کے لیے قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات اور بچ جانے والے مسافروں کے بیانات کے مطابق کشتی کے اگلے حصے میں ایک دھماکہ سنا گیا تھا جس کے بعد کشتی کا توازن بگڑ گیا اور وہ الٹ گئی۔ کئی مسافروں نے یہ شکوہ بھی کیا ہے کہ کشتی پر زندگی بچانے والے آلات یعنی لائف جیکٹس کی تعداد ضرورت سے بہت کم تھی جس کی وجہ سے مسافروں کو اپنی جان بچانے کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حادثے کے وقت پانی میں گرنے والے مسافروں نے شدید جدوجہد کی اور کئی افراد کو بغیر لائف جیکٹس کے ہی پانی میں چھلانگ لگانا پڑی۔ ترکیہ اور شمالی قبرص کے حکام نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کشتی کے کپتان اور عملے کے سات دیگر ارکان کو حراست میں لے لیا ہے۔ شمالی قبرص کے وزیرِ اعظم اونال اوستل نے تصدیق کی ہے کہ عملے کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن پوری تیزی سے جاری ہے اور وہ اس حوالے سے جلد کسی مثبت پیشرفت کی امید رکھتے ہیں۔ ترکیہ کی بحریہ کے جہاز اور دیگر امدادی کشتیاں بھی اس بڑے سرچ آپریشن کا حصہ ہیں۔ اس دلخراش واقعے پر عالمی سطح پر بھی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اس سمندری حادثے پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم نے ترک صدر اور سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے لاپتہ افراد کی بحفاظت واپسی کے لیے دعا کی اور مشکل کی اس گھڑی میں ترک قوم کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا۔