World
نیپال اور چین میں سیلاب سے ہلاکتیں، آٹھ سو افراد جاں بحق
نیپال اور چین کے سرحدی علاقوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد تقریباً آٹھ سو ہو گئی ہے جبکہ تین ہزار سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ ریڈ کراس کے مطابق اس ہولناک آفت سے نوے ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں اور امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔
نیپال اور چین کے سرحدی علاقوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے نتیجے میں اموات کی تعداد آٹھ سو کے قریب پہنچ گئی ہے جبکہ تین ہزار سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ نیپال کے نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق اتوار کے روز تک اس ہلاکت خیز آفت کے بعد امدادی کارروائیاں پانچویں روز بھی جاری رہیں۔ چینی سرکاری میڈیا نے اس سے قبل تبت میں سولہ افراد کے جاں بحق ہونے اور ساڑھے پانچ سو سے زائد افراد کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کی تھی، جس کے بعد اس مجموعی آفت میں مرنے والوں کی تعداد آٹھ سو کے قریب اور لاپتہ افراد کی تعداد تین ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ نیپال کی لاپتہ افراد کی فہرست میں پانچ سو سے زائد غیر ملکی اور پن بجلی کے منصوبوں پر کام کرنے والے سیکڑوں مزدور بھی شامل ہیں۔
حکام نے بتایا ہے کہ اس شدید ترین آفت کی وجہ سے ہیمالیائی خطے کے دشوار گزار علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ خراب موسم اور دریا میں پانی کی سطح میں اضافے کے باعث ریسکیو ٹیموں کو کئی بار کام معطل بھی کرنا پڑا۔ چین نے اس آفت کا ذمہ دار عالمی حرارت اور موسمیاتی تبدیلیوں کو قرار دیا ہے، جبکہ چینی وزیر خارجہ نے اپنے نیپالی ہم منصب سے بات چیت میں اسے حالیہ برسوں کی بدترین سرحد پار آفت قرار دیا۔ اس وقت چینی اور بھارتی ماہرین بھی نیپالی حکام کے ساتھ مل کر ٹنلز میں پھنسے افراد کو نکالنے اور امدادی کاموں میں بھرپور مدد فراہم کر رہے ہیں۔
لاشوں کے ناقابل شناخت ہونے اور ان کے گلنے سڑنے کے عمل کے پیش نظر حکام نے شناخت نہ ہونے والی لاשوں کی اجتماعی تدفین کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ چٹوان ضلع میں حکام لاشوں کی تصاویر، ڈی این اے کے نمونے اور دیگر تفصیلات محفوظ کر رہے ہیں تاکہ بعد میں لواحقین اپنے پیاروں کی شناخت کر سکیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والی نصف سے زائد لاشیں بری طرح مسخ ہو چکی ہیں اور ان کی شناخت ممکن نہیں رہی۔ اس کے علاوہ چین نے بھی متاثرہ علاقوں میں دو ہزار ایک سو سے زائد امدادی کارکنوں کو متحرک کر دیا ہے اور متاثرین کی امداد کے لیے بھاری فنڈز کے ساتھ ساتھ اشیائے خورونوش اور طبی آلات بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔