LIVE
Loading Breaking News...

ناظم آباد اسپتال واقعہ: خاتون کا حمل کا جھوٹا ناٹک بے نقاب

News Image
کراچی کے ناظم آباد اسپتال میں نومولود کے مبینہ اغوا یا گمشدگی کا ڈراما پولیس اور میڈیکل رپورٹس کے بعد بے نقاب ہو گیا۔ طبی جانچ سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ خاتون حقیقت میں حاملہ ہی نہیں تھی اور اس نے یہ سب معاشرتی دباؤ سے بچنے کے لیے کیا۔
کراچی کے علاقے ناظم آباد کے ایک زچگی اسپتال میں پیش آنے والے پر اسرار واقعے کی حقیقت بالآخر پولیس اور محکمہ صحت کی تحقیقات کے بعد سامنے آگئی ہے۔ ابتدائی طور پر یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی کہ اسپتال سے ایک نومولود بچہ مبینہ طور پر غائب ہو گیا ہے جس کے بعد سوشل میڈیا اور مقامی سطح پر سنسنی پھیل گئی۔ اس واقعے نے جہاں ایک طرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چوکس کر دیا، وہیں اسپتال کی انتظامیہ اور طبی عملے کی سکیورٹی اور کارکردگی پر بھی شدید سوالات اٹھائے گئے۔ تاہم، پولیس کی جانب سے معاملے کی گہرائی میں جا کر تفتیش کی گئی اور اعلیٰ سطحی میڈیکل بورڈ کی تشکیل عمل میں لائی گئی۔ تحقیقات کے اگلے مرحلے میں جب متعلقہ خاتون کے طبی ٹیسٹ اور میڈیکل ایگزامینیشن کروائے گئے تو حیرت انگیز انکشافات سامنے آئے۔ ڈاکٹرز کی رپورٹس نے واضح کر دیا کہ خاتون نہ صرف یہ کہ بچے کی پیدائش کے مرحلے سے نہیں گزری تھی، بلکہ وہ طبی طور پر حاملہ ہی نہیں تھی۔ اس سائنسی اور مصدقہ ثبوت کے سامنے آنے کے بعد پولیس نے تفتیش کا رخ موڑ دیا۔ تفتیشی حکام کے مطابق اس ڈرامے کے پیچھے کوئی منظم گروہ نہیں بلکہ گھریلو اور معاشرتی دباؤ کارفرما تھا۔ پولیس کی ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ خاتون نے اپنے خاندان اور سسرال والوں کے طعنوں اور معاشرتی دباؤ سے بچنے کے لیے حمل کا جھوٹا ڈھونگ رچایا تھا۔ طویل عرصے سے اولاد نہ ہونے یا معاشرتی توقعات پر پورا نہ اترنے کے خوف کی وجہ سے اس نے یہ انتہائی قدم اٹھایا تاکہ وہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو دھوکہ دے سکے۔ اس نے اسپتال کے اندر مبینہ طور پر بچے کی گمشدگی کا ایسا منظر نامہ پیش کیا کہ ہر کوئی اس کے جھوٹ پر یقین کرنے پر مجبور ہو گیا۔ اس واقعے کے منظر عام پر آنے کے بعد ماہرینِ نفسیات اور سماجی رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین پر جو غیر ضروری سماجی دباؤ ڈالا جاتا ہے، وہ انہیں ذہنی تناؤ کا شکار بناتا ہے جس کے نتیجے میں ایسے افسوسناک اور غیر معمولی واقعات جنم لیتے ہیں۔ پولیس اس معاملے کے تمام پہلوؤں کا قانونی جائزہ لے رہی ہے تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ اس جھوٹے دعوے اور اس سے پیدا ہونے والی افرا تفری کے پس منظر میں مزید کون لوگ ملوث ہیں۔