World
امریکہ کی پابندیاں: متحدہ عرب امارات اور مصر کے مرکزی بینکوں کا ہنگامی اقدام
امریکہ کی جانب سے ایران سے متعلق پابندیوں کی زد میں آنے کے بعد مصر کے بنک مصر نے امریکی نوٹس کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ یو اے ای کے مرکزی بینک نے بھی صورتحال کا فوری جائزہ لینے کے لیے ہنگامی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔
امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف مالیاتی نیٹ ورک پر کڑی پابندیوں اور ڈالر تک رسائی منسوخ کرنے کی دھمکی کے بعد خطے میں مالیاتی ہلچل مچ گئی ہے۔ اس پیش رفت کے تناظر میں متحدہ عرب امارات اور مصر کے مرکزی بینکوں نے انتہائی اہم قدم اٹھاتے ہوئے بنک مصر کے معاملے پر باہمی رابطہ کاری اور ہنگامی جائزے کا آغاز کر دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق مصری بینک بنک مصر کو امریکی ٹریژری کی جانب سے ایران سے متعلقہ پابندیوں کے ایک نوٹس کا سامنا ہے، جس کے بعد اس کے مالیاتی امور پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق مصر کے اس مرکزی اور اہم ترین بینک نے امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے ملنے والے نوٹس کا باریک بینی سے جائزہ لینا شروع کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ بڑے مالیاتی بحران سے بچا جا سکے۔ دوسری جانب، متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے بھی صورتحال کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ایک فوری اور ہنگامی تحقیقات یا جائزے کا حکم دے دیا ہے۔ اماراتی حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ خطے میں کام کرنے والے مالیاتی اداروں پر اس امریکی اقدام کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور اس سے کس طرح نمٹا جائے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے مالیاتی سہولت کاروں اور اداروں کے خلاف یہ نئی پابندیاں دراصل تہران کے مالیاتی لائف لائن کو کاٹنے کی ایک اور بڑی کوشش ہیں۔ اس پوری صورتحال میں مشرق وسطیٰ کے نمایاں مالیاتی مراکز اور بینک غیر ارادی طور پر امریکی پالیسیوں کی زد میں آ رہے ہیں، جس سے بین الاقوامی بنکنگ کے شعبے میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ دونوں ممالک کے مرکزی بینک اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ امریکی قوانین کی مکمل تعمیل بھی یقینی بنائی جائے اور اپنے تجارتی و مالیاتی مفادات کا بھی تحفظ کیا جائے۔
آنے والے دنوں میں اس بات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکہ اور مشرق وسطیٰ کے ان اہم مالیاتی اداروں کے درمیان سفارتی اور تکنیکی سطح پر مذاکرات ہوں گے۔ بنک مصر کی پوزیشن واضح ہونے کے بعد خطے کے دیگر بینک بھی اپنی پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لے رہے ہیں تاکہ امریکی پابندیوں کے دائرہ کار سے بچتے ہوئے بین الاقوامی منڈی میں ڈالر کی رسائی کو بحال رکھا جا سکے۔