LIVE
Loading Breaking News...

غزہ امن معاہدہ 2024: روڈ میپ، حماس اور اسرائیل کے مطالبات

News Image
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق غزہ امن معاہدے کے نئے روڈ میپ میں حماس کی غیر مسلح کاری اور اسرائیلی افواج کے انخلا کے حوالے سے اہم نکات زیر بحث ہیں۔ پاکستان سمیت عالمی رہنماؤں نے اس امن منصوبے پر محتاط خیرمقدم اور مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
غزہ میں جاری طویل کشیدگی اور بحران کے بعد اب عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے کوششیں تیز ہو گئی ہیں، اور ایک نئے امن روڈ میپ پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق، اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ غزہ سے فوج کا مکمل انخلا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک حماس کی جانب سے 'اصلی اور حقیقی' غیر مسلح کاری کا عمل مکمل نہیں کیا جاتا۔ اس حوالے سے عالمی برادری میں ملے جلے جذبات پائے جاتے ہیں جبکہ مبصرین کی جانب سے اس پیشرفت پر محتاط امید کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، الجزیرہ کی لائیو رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ امن منصوبے سے انتہائی خوش ہے، تاہم انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ آیا اسرائیلی فوج کا انخلا پہلے عمل میں آئے گا یا حماس کی غیر مسلح کاری کو ترجیح دی جائے گی۔ اس غیر یقینی صورتحال کے باوجود سفارتی سطح پر مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے تاکہ کسی متفقہ لائحہ عمل تک پہنچا جا سکے۔ دریں اثنا، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے غزہ امن منصوبے کے تحت امن بورڈ کی پیشرفت کا خیرمقدم کیا ہے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تمام بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ پاکستان کی یہ حمایت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مسلم دنیا اور مغربی ممالک دونوں ہی غزہ کے شہریوں کے لیے انسانی امداد کی فراہمی اور جنگ کے مستقل خاتمے کے خواہاں ہیں۔ حماس اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے ممکنہ معاہدے کے خدوخال پر فی الحال بحث جاری ہے، اور آنے والے دنوں میں خطے کے مستقبل کے حوالے سے اہم فیصلے متوقع ہیں۔