World
شام نے لیبیا میں سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا، دوطرفہ تعلقات میں نیا باب
شام اور لیبیا کے اعلیٰ حکام کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات کے بعد باضابطہ طور پر سفارتی تعلقات بحال کر دیے گئے ہیں۔ دونوں ممالک نے باہمی تعاون کی کمیٹی قائم کرنے اور سفارتی مشنز کو دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا ہے۔
دمشق اور طرابلس کے درمیان سفارتی میدان میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں دونوں ممالک نے باہمی تعلقات کو نئے سرے سے استوار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق شام اور لیبیا کے مابین اعلیٰ سطحی مذاکرات کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئے جن کے دوران دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور خطے کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر شامی وزیر خارجہ اور لیبیا کے وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان تاریخی رشتوں کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ خطے میں امن اور استحکام کی کوششوں کو تقویت مل سکے۔ مذاکرات کے دوران سب سے اہم فیصلہ سفارتی مشنز کی بحالی کا کیا گیا جس کے تحت شام نے لیبیا میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا ہے۔ اس اقدام کو دونوں حکومتوں کی جانب سے سفارتی محاذ پر ایک نیا باب کھولنے سے تعبیر کیا جا رہا ہے جس سے دونوں ممالک کے شہریوں کو قونصلر اور سفارتی خدمات کی فراہمی میں بڑی آسانی ہوگی۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سفارت خانے کی دوبارہ بحالی سے دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور معاشی رابطوں میں بھی نمایاں تیزی آئے گی۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ دوطرفہ تعاون کو عملی شکل دینے کے لیے ایک مشترکہ وزارتی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ یہ کمیٹی تجارت، سکیورٹی، اور دیگر اہم شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ کے لیے لائحہ عمل تیار کرے گی۔ مبصرین کا خیال ہے کہ برسوں کے تعطل کے بعد شام اور لیبیا کے مابین سفارتی تعلقات کی بحالی خطے کی سیاست میں ایک مثبت تبدیلی ہے اور اس سے دیگر عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے میں بھی مدد ملے گی۔