World
امریکہ کا جزیرہ لارک پر حملہ، ایرانی فوج کو جانی نقصان
امریکہ نے کئی ہفتوں کے تعطل کے بعد جنوبی ایران کے جزیرہ لارک پر فضائی حملہ کیا ہے۔ پاسداران انقلاب نے تصدیق کی ہے کہ اس کارروائی کے نتیجے میں کئی فوجی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک بار پھر خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے جب امریکہ کی جانب سے جنوبی ایران کے اہم ترین مقام جزیرہ لارک پر فضائی حملہ کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق کئی ہفتوں کے وقفے کے بعد ہونے والا یہ پہلا براہ راست حملہ ہے جس کے نتیجے میں خطے میں جنگ کے بادل مزید گہرے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس فوجی کارروائی کے بعد بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور سفارتی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ امریکی کارروائی کے نتیجے میں ان کے کئی فوجی اہلکار جاں بحق اور متعدد زخمی ہو چکے ہیں۔ ایرانی عسکری حکام کا کہنا ہے کہ اس جارحیت کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا کیونکہ یہ ملکی خودمختاری پر صریح حملہ ہے۔ تہران کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ وہ اپنے دفاع کے تمام قانونی حقوق محفوظ رکھتے ہیں اور اس اشتعال انگیزی کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب امریکی عسکری حکام کی طرف سے اس حملے کے محرکات اور مقاصد کے حوالے سے فوری طور پر کوئی تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم دفاعی ماہرین اسے خطے میں جاری کشیدگی کا ایک نیا اور خطرناک موڑ قرار دے رہے ہیں۔ اس حملے کے بعد آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف کے سمندری راستوں پر سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے کیونکہ جزیرہ لارک اسٹریٹجک لحاظ سے انتہائی حساس مقام پر واقع ہے۔ بین الاقوامی برادری نے دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچایا جا سکے، لیکن زمینی حقائق انتہائی کشیدہ نظر آرہے ہیں۔