World
راٹکو ملاڈچ کی حمایت: بوسنیائی سربوں کا اجتماع اور تنازع
بوسنیا کے سابق سرب کمانڈر راٹکو ملاڈچ کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے سیکڑوں بوسنیائی سربوں نے اجتماع کیا۔ جنگی جرائم کے مجرم کے لیے اس قسم کی حمایت پر بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
بوسنیا اور ہرزیگووینا میں ایک بار پھر تنازعات اس وقت شدت اختیار کر گئے جب سیکڑوں بوسنیائی سربوں نے سابق سرب کمانڈر راٹکو ملاڈچ کی حمایت میں ایک اجتماع کا انعقاد کیا۔ مبصرین کے مطابق یہ اجتماع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم بعض حلقوں کی طرف سے جنگی جرائم کے مجرموں کو ہیرو بنا کر پیش کرنا ماضی کے زخموں کو تازہ کر رہا ہے۔ راٹکو ملاڈچ کو بین الاقوامی عدالتوں کی جانب سے انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے مقدمات میں سزائیں سنائی گئی ہیں، جنہیں 'بوسنیا کا قصائی' بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے باوجود، بوسنیائی سرب برادری کے ایک حصے میں ان کی مقبولیت اور حمایت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے، جو کہ علاقائی ہم آہنگی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس تقریب میں شریک افراد نے ملاڈچ کی تصاویر اٹھا کر ان کے حق میں نعرے بازی بھی کی، جس پر دیگر نسلی گروہوں اور بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات بلقان کے خطے میں دیرپا امن کے قیام کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ یورپی یونین اور دیگر عالمی طاقتیں پہلے ہی بوسنیا میں قوم پرستانہ سوچ اور جنگی مجرموں کی glorification پر سخت تحفظات کا اظہار کر چکی ہیں۔ دوسری طرف، متاثرہ خاندانوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اجتماعات سے متاثرہ خاندانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں اور انصاف کے تقاضے پامال ہوتے ہیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کے لیے یہ ایک کڑا امتحان ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھتے ہوئے اس قسم کے اشتعال انگیز اجتماعات کو روکنے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں۔