World
مغربی کنارے میں اسرائیلی فائرنگ سے فلسطینی بچوں کی ہلاکتوں میں اضافہ
صہیونی فوج کی جارحیت کے نتیجے میں مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی بچوں اور کم عمر نوجوانوں کی ہلاکتوں کے اعداد و شمار میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ متاثرہ والدین کا کہنا ہے کہ معصوم بچوں کے قتل عام کے باوجود انہیں کسی قسم کا انصاف نہیں مل رہا۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج اور سکیورٹی اہلکاروں کی فائرنگ سے فلسطینی بچوں اور کم عمر نوجوانوں کی ہلاکتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی ذرائع کے مطابق اکتوبر 2023 کے بعد سے نہتے بچوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں میں کئی گنا تیزی آئی ہے، جس نے والدین کو گہرے صدمے اور کرب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ ان کے گھروں کے چراغ بلاوجہ بجھا دیے گئے ہیں اور عالمی سطح پر اس بربریت کا نوٹس لینے والا کوئی نہیں۔
اسرائیلی حقوق کی تنظیم 'بتسیلم' کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 سے لے کر جون 2026 تک مغربی کنارے میں کم از کم 235 بچوں اور نوجوانوں کو اسرائیلی فورسز نے شہید کیا ہے، جن میں آباد کاروں کے ہاتھوں مارے جانے والے پانچ افراد بھی شامل ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی کے متعلقہ کمیشن نے اس عرصے کے دوران اموات کی تعداد 250 بتائی ہے۔ جنگ سے پہلے کے برسوں کے مقابلے میں یہ شرح کئی گنا زیادہ ہے، جہاں پہلے ماہانہ اوسط ایک بچے کی شہادت تھی، وہیں اب یہ اوسط بڑھ کر تقریباً سات ماہانہ تک پہنچ چکی ہے۔
متاثرہ ماؤں اور خاندانوں کے مطابق ان کے بچے یا تو پتھراؤ کے واقعات کے دوران نشانہ بنے یا پھر صیہونی فوج کی اندھا دھند فائرنگ کی زد میں آئے۔ ایسے ہی المناک واقعات میں سات ماہ کے شیرخوار سم ابو ہائیکل اور نو سالہ محمد الحلاق جیسے معصوم بچے بھی شامل ہیں جنہیں انتہائی بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ والدین کا شکوہ ہے کہ قابض فوج ہر واقعے کے بعد جھوٹے عذر پیش کرتی ہے اور فلسطینیوں کو کبھی انصاف نہیں ملتا۔