LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیل کو دفاعی برآمدات: بھارت کا مؤقف اور بین الاقوامی رپورٹس

News Image
بھارتی وزارت خارجہ نے اسرائیل کو دفاعی برآمدات کے حوالے سے جاری بحث پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کا اسٹریٹجک ٹریڈ کنٹرول کا نظام انتہائی مضبوط اور واضح ہے۔ یہ بیان ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی جانب سے غزہ تنازع کے دوران اسلحے کی فروخت پر اٹھائے گئے سوالات کے بعد سامنے آیا ہے۔
نئی دہلی (نیکسو را نیوز اردو) بھارتی وزارت خارجہ نے حال ہی میں اسرائیل کو کی جانے والی دفاعی برآمدات اور اس سے جڑے بین الاقوامی خدشات کے تناظر میں ایک اہم بیان جاری کیا ہے۔ ترجمان وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت کے پاس اسٹریٹجک ٹریڈ کنٹرول کے حوالے سے ایک انتہائی مضبوط، شفاف اور بین الاقوامی معیار کے مطابق قانونی و ریگولیٹری فریم ورک موجود ہے جو تمام برآمدات کی کڑی نگرانی کرتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ غزہ میں جاری کشیدگی کے دوران بھارت کی جانب سے اسرائیل کو مبینہ طور پر اسلحہ اور دفاعی سازوسامان بھیجا گیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور تنظیموں بشمول ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ تحقیقات میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت کے دفاعی سپلائی چین نے جنگ کے دوران اسرائیل کو کئی کھیپیں فراہم کی ہیں۔ ان رپورٹس کے مطابق اس قسم کی برآمدات سے بین الاقوامی قوانین اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کے حوالے سے سوالات جنم لیتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تمام صورتحال نے نئی دہلی کے لیے سفارتی سطح پر ایک نازک موڑ پیدا کر دیا ہے جہاں اسے اپنے روایتی تزویراتی تعلقات اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی دباؤ کے درمیان توازن برقرار رکھنا پڑ رہا ہے۔ دوسری جانب، بھارتی حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تمام دفاعی برآمدات اور تجارتی سرگرمیاں سخت ملکی قوانین اور بین الاقوامی وعدوں کے تابع کی جاتی ہیں۔ وزارت کا مؤقف ہے کہ بھارت عالمی امن، قانون کی بالادستی اور دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں میں اپنے ضابطوں کے مطابق کاربند ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید سفارتی بحث اور بین الاقوامی سطح پر جواب طلبی کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے کیونکہ غزہ میں جاری بحران پر پوری دنیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں اور ہر ملک کے دفاعی تجارتی تعلقات کی باریک بینسی سے جانچ کی جا رہی ہے۔