LIVE
Loading Breaking News...

پنجاب میں انسداد دہشتگردی کے مقدمات کی خفیہ سماعت کا متنازع بل

News Image
پنجاب حکومت کی جانب سے انسداد دہشتگردی ایکٹ میں ترمیم کا نیا بل پیش کیا گیا ہے جس کے تحت مقدمات کی سماعت خفیہ رکھی جائے گی۔ اس قانون کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام بنیادی انسانی حقوق اور آئین پاکستان میں دیے گئے شفاف ٹرائل کے حق کے منافی ہے۔
لاہور: پنجاب حکومت کی جانب سے صوبے میں انسداد دہشتگردی کے قوانین میں ایک انتہائی متنازع ترمیم لانے کی تیاری کی جا رہی ہے جس کے تحت دہشتگردی کے مقدمات کی خفیہ سماعتیں کی جا سکیں گی۔ مجوزہ انسداد دہشتگردی ترمیمی بل کے مطابق مقدمات کے دوران ججوں، استغاثہ، گواہوں اور دفاعی وکلاء کی شناخت کو خفیہ رکھا جائے گا تاکہ مبینہ طور پر انہیں سکیورٹی فراہم کی جا سکے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ قدم ججوں اور گواہوں کی جان کے تحفظ کے لیے اٹھایا جا رہا ہے کیونکہ ماضی میں گواہوں پر حملے اور دھمکیاں دینے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ تاہم اس بل کے ناقدین اور اپوزیشن اراکین کا موقف ہے کہ اس قانون سے شفاف ٹرائل کا بنیادی آئینی حق بری طرح متاثر ہوگا۔ بل کے مسودے کے مطابق حکومت گریڈ 20 یا اس کے مساوی کسی نامعلوم افسر کو مجاز اتھارٹی کے طور پر نامزد کرے گی جس کی شناخت مکمل طور پر پوشیدہ رکھی جائے گی اور اس کے بارے میں صرف لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو معلوم ہوگا۔ یہ نامعلوم افسر کسی بھی دہشتگردی کے مقدمے کو انتہائی تحفظ کا حامل قرار دے کر اسے ایک خفیہ ٹریک پر ڈال سکے گا۔ اس کے بعد مقدمے کی تمام کارروائی، گواہوں کے کوڈ نمبرز اور ویڈیو ലിంکس کے ذریعے ہونے والی سماعتیں صیغہ راز میں رکھی جائیں گی اور ملزم کو یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ اس کے خلاف گواہی دینے والا یا اس کا مقدمہ سننے والا جج کون ہے۔ اپوزیشن اراکین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے طریقہ کار سے عدالتی نظام میں شفافیت کا جنازہ نکل جائے گا اور ملزم کو اپنے دفاع کا منصفانہ موقع نہیں مل سکے گا۔ قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے علمبرداروں نے بھی اس بل پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے آئین پاکستان کے آرٹیکل 10 اے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ آئین کا یہ آرٹیکل ہر شہری کو منصفانہ ٹرائل اور قانون کے مطابق کارروائی کا بنیادی حق فراہم کرتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ نامعلوم ججوں اور خفیہ گواہوں کے بیانات کی بنیاد پر موت جیسی سزائیں دینا کسی بھی مہذب معاشرے کے عدالتی معیار سے مطابقت نہیں رکھتا۔ وکلاء برادری کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر وکیل صفائی بھی خفیہ فہرست میں شامل ہوگا تو ملزم کے لیے یہ جاننا ناممکن ہو جائے گا کہ اس کا وکیل واقعی اس کے مفادات کی نمائندگی کر رہا ہے یا کسی اور ادارے کے احکامات پر عمل پیرا ہے۔ پنجاب اسمبلی میں اس بل پر بحث اور ووٹنگ کا عمل آئندہ روز متوقع ہے جہاں اپوزیشن کی جانب سے اس کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔ اپوزیشن رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ وہ اس سیاہ قانون کو اسمبلی میں منظور نہیں ہونے دیں گے اور اس کے خلاف ہر قانونی و آئینی فورم پر آواز اٹھائیں گے۔ اس وقت ملک بھر میں اس قانون کے حوالے سے بحث چھڑی ہوئی ہے کہ آیا سکیورٹی کے نام پر بنیادی انسانی حقوق اور منصفانہ ٹرائل کے حق کو ختم کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ آنے والے دنوں میں اس بل کی منظوری یا مسترد ہونے سے ملکی سیاسی اور عدالتی منظر نامے پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔