World
بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری بحران کا شکار، سکیورٹی خدشات میں اضافہ
بھارت کے ایوی ایشن سیکٹر میں حالیہ حفاظتی نقائص اور فضائی حادثات نے اس کی عالمی شہرت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ ایئر انڈیا اور انڈیگو جیسی بڑی ایئر لائنز کو مالیاتی خسارے اور انتظامی غفلت کا بھی سامنا ہے۔
بھارت کا ایوی ایشن سیکٹر جو دنیا کی تیسری سب سے بڑی گھریلو ہوا بازی کی مارکیٹ ہے، آج کل شدید ترین بحران اور حفاظتی خدشات کی زد میں ہے۔ ایک سال قبل تک بھارتی حکومت اس شعبے کو ترقی کی علامت قرار دے رہی تھی، لیکن ایئر انڈیا اور انڈیگو جیسے بڑے اداروں میں پیش آنے والے پے در پے حادثات اور سکیورٹی خامیوں نے اس دعوے کی حقیقت کھول کر رکھ دی ہے۔ مارکیٹ میں مسافر نشستوں کی نوے فیصد تعداد ان دو بڑی ایئر لائنز کے پاس ہے، جس کی وجہ سے مسابقت کی کمی بھی اس بحران کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق پچھلے دو سال بھارت کے عالمی وقار اور ایوی ایشن کی ساکھ کے لحاظ سے انتہائی سیاہ ترین سال ثابت ہوئے ہیں۔
حالیہ بحران اس وقت شدت اختیار کر گیا جب تھائی لینڈ کے شہر پھুকেٹ سے نئی دہلی آنے والی ایئر انڈیا کی ایک پرواز فضا میں اچانک تین سو فٹ نیچے آ گئی جس کے نتیجے میں چوبیس مسافر زخمی ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ طیارے کا کیپٹن مبینہ طور پر لینڈنگ کے وقت منشیات کے استعمال میں مثبت پایا گیا، جس پر ایئر انڈیا نے تمام پائلٹس کے فوری منشیات ٹیسٹ کا حکم دے دیا۔ اس کے علاوہ ایئر انڈیا کے بوئنگ طیاروں میں سکیورٹی کی تقریباً ایک سو خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں ہنگامی نوعیت کے سات سنگین ضابطے کی خلاف ورزیاں بھی شامل ہیں۔ پائلٹس کی تربیت کے فقدان اور انتظامی غفلت نے ایئر لائن کی حفاظتی ثقافت پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔
حفاظتی بحران کے ساتھ ساتھ بھارتی ایئر لائنز کو شدید مالی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔ پاکستانی فضائی حدود کی بندش اور مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث جیٹ فیول کی قیمتوں میں اضافے نے پروازوں کے اخراجات کو آسمان پر پہنچا دیا ہے۔ ریٹنگ ایجنسی اکرا کے مطابق اس مالی سال بھارتی ایئر لائنز کو چار ارب ڈالر کے قریب نقصان کا تخمینہ ہے۔ ایئر انڈیا کا خسارہ بڑھ کر دو اعشاریہ تین ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جبکہ انڈیگو کو بھی مسلسل مالی نقصان کا سامنا ہے۔ بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے ایئر لائنز نے اپنے توسیع کے منصوبے یا تو معطل کر دیے ہیں یا ان میں تاخیر کی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف ترقی کی رفتار کا نہیں بلکہ اس بات کا ہے کہ اس تیز رفتار ترقی کے ساتھ ایوی ایشن کا پورا نظام ہم آہنگ نہیں ہو سکا۔ ریگولیٹری باڈی ڈی جی سی اے پر بھی تنقید کی جا رہی ہے کہ وہ ایک سخت نگران کے بجائے سہولت کار کا کردار ادا کر رہی ہے۔ اگرچہ حکومت نئے مسافر قوانین اور مسابقتی ماحول پیدا کرنے کے لیے دو نئی ایئر لائنز کی منظوری پر غور کر رہی ہے، لیکن صنعت سے وابستہ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک ایوی ایشن کے بنیادی ڈھانچے اور اخراجات کے اسٹرکچر کو درست نہیں کیا جاتا، اس شعبے کا بحران حل ہونا مشکل ہے۔