LIVE
Loading Breaking News...

کراچی: ڈی ایچ اے میں پولیس بدسلوکی، پولیس چیف کی رپورٹ طلب

News Image
کراچی کے پو‌ش علاقے ڈی ایچ اے میں شہریوں اور پولیس کے درمیان ہونے والے جھگڑے کی وائرل ویڈیو کا نوٹس لے لیا گیا ہے۔ کراچی کے پولیس چیف نے واقعے میں ملوث اہلکاروں کے مبینہ بدسلوکی پر مبنی کردار کی مکمل تحقیقات کرکے تین روز میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) میں پیش آنے والے ایک ناخوشگوار واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد محکمہ پولیس میں ہلچل مچ گئی ہے۔ وائرل ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک خاتون ہاتھ میں ڈمبیل اٹھائے ایک شہری سے بحث و تکرار کر رہی ہیں، جبکہ اس دوران موقع پر موجود پولیس اہلکار بھی اس جھگڑے اور تماشا بنے منظر میں نظر آ رہے ہیں۔ اس واقعے کے فوری بعد عوامی حلقوں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا اور پولیس کے غیر پیشہ ورانہ رویے پر سوالات اٹھائے گئے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس کا کام قانون کی بالادستی قائم کرنا اور عوام کی جان و مال کا تحفظ کرنا ہے، نہ کہ اس طرح کے ہنگاموں میں تماشا دیکھنا یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنا۔ واقعے کی سنگین نوعیت کو دیکھتے ہوئے کراچی کے پولیس چیف نے فوری طور پر اس کا سخت نوٹس لیا ہے اور متعلقہ حکام کو حکم دیا ہے کہ وہ اس پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کریں۔ پولیس چیف کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے مطابق، وائرل ویڈیو میں نظر آنے والے تمام اہلکاروں کے کردار کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا اور یہ دیکھا جائے گا کہ آیا انہوں نے موقع پر ضابطے کی کارروائی کی یا غفلت کا مظاہرہ کیا۔ اس سلسلے میں پولیس حکام کو واضح ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ واقعے کی تمام تفصیلات جمع کر کے آئندہ تین روز کے اندر ایک جامع انکوائری رپورٹ پیش کریں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ رپورٹ موصول ہونے کے بعد اگر کوئی پولیس اہلکار اختیارات کے غلط استعمال یا غفلت میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف قانون کے مطابق سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ دوسری جانب، اس واقعے نے شہر میں پولیس کے رویے اور شہریوں کے ساتھ ان کے تعلقات پر ایک بار پھر بحث کو جنم دے دیا ہے، اور سول سوسائٹی کی جانب سے پولیس فورس میں اصلاحات لانے اور تربیت بہتر بنانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔