LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کا دفاعی اجلاس کل استنبول میں

News Image
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین تاریخی دفاعی معاہدے کا پہلا باضابطہ اجلاس کل استنبول میں منعقد کیا جائے گا۔ اس ملاقات میں تینوں برادر ممالک کے عسکری اور دفاعی تعاون کو مزید فروغ دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوگا۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین طے پانے والے اہم مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پہلا باضابطہ اجلاس کل استنبول میں منعقد ہوگا۔ اس بات کی تصدیق ترک وزارتِ خارجہ کے ذرائع اور پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے کی گئی ہے۔ یہ اجلاس دونوں برادر اسلامی ممالک اور ترکی کے درمیان دفاعی اور عسکری شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون کی ایک نئی کڑی کی حیثیت رکھتا ہے، جس سے خطے میں امن اور سلامتی کے نئے ادوار کا آغاز ہوگا۔ترک ذرائع کے مطابق اس اہم ترین اجلاس میں تینوں ممالک کے اعلیٰ عسکری حکام، دفاعی ماہرین اور سفارتی نمائندے شرکت کریں گے۔ اجلاس کا بنیادی مقصد اگست 2026 میں مکہ مکرمہ میں دستخط کیے جانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کے خدوخال کو عملی جامہ پہنانا اور اس پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینا ہے۔ یاد رہے کہ اس معاہدے پر ترکی کے صدر رجب طیب اردگان، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے دستخط کیے تھے، جس کو عالمی سطح پر انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔اجلاس کے دوران تینوں ممالک کے مابین مشترکہ فوجی مشقوں، دفاعی پیداوار، انٹیلی جنس شیئرنگ اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے امور پر تفصیلی غور و خوض کیا جائے گا۔ اس سہ فریقی تعاون کا مقصد دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا اور دفاعی لحاظ سے ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو تقویت دینا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ تعلقات میں ترکی کی شمولیت سے خطے میں ایک نیا اسٹریٹجک توازن قائم ہو رہا ہے جو معاشی اور عسکری دونوں محاذوں پر انتہائی سودمند ثابت ہوگا۔دفتر خارجہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں دفاعی معاہدے کے اگلے مراحل کے لیے لائحہ عمل طے کر لیا جائے گا، جبکہ تینوں ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے طے پانے والے فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے ایک مشترکہ کمیٹی بھی فعال کی جائے گی۔ اس ملاقات کو خطے کے موجودہ چیلنجز سے نمٹنے اور باہمی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔