LIVE
Loading Breaking News...

حافظ نعیم الرحمان کی حکومت کو راولپنڈی اور اسلام آباد میں دھرنے کی دھمکی

News Image
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر لیاقت باغ میں جلسے کی اجازت نہ دی گئی تو راولپنڈی اور اسلام آباد میں دھرنے دیے جائیں گے۔ انہوں نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور بجلی کے بلوں میں ہوشربا اضافے کے خلاف حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کو واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر انہیں راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسہ کرنے کی اجازت نہ دی گئی تو وہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں طویل دھرنے دینے پر مجبور ہوں گے۔ لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوامی حقوق کے حصول اور مہنگائی کے خلاف پرامن احتجاج ہمارا آئینی اور جمہوری حق ہے، جسے روکنے کے لیے حیلے بہانے تراشے جا رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر رکاوٹیں ختم کرے اور جلسے کی راہ ہموار کرے۔ جماعت اسلامی کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ظالمانہ ٹیکسوں کے خلاف جاری احتجاج اب اپنے پندرہویں روز میں داخل ہو چکا ہے۔ اس دوران ملک بھر میں عوامی سطح پر حکومت کے خلاف غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کی معاشی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، مہنگے بجلی کے بل اور نام نہاد ٹیکسوں نے غریب اور متوسط طبقے کا کچومر نکال دیا ہے۔ عوام کے پاس دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہیں جبکہ حکمران طبقہ اپنی مراعات ختم کرنے کو تیار نہیں۔ امیر جماعت اسلامی نے ملک میں کرپشن اور علامتی گورننس پر بھی کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو سنگین معاشی بحران کا سامنا ہے لیکن حکومتی ادارے صرف اعلانات اور وعدوں تک محدود ہیں۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے بجائے آئی ایم ایف کے ایجنڈے پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ جماعت اسلامی نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ عوام کے حقوق کے لیے اپنی تحریک کو اس وقت تک جاری رکھے گی جب تک حکومت ظالمانہ ٹیکسوں اور قیمتوں میں کمی کا اعلان نہیں کرتی۔ آخر میں حافظ نعیم الرحمان نے تمام کارکنان اور عوام سے اپیل کی کہ وہ احتجاجی تحریک میں بھرپور شرکت کریں تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ انہوں نے انتظامیہ کو متنبہ کیا کہ اگر پرامن احتجاج کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور ملک بھر میں دائرہ کار مزید وسیع کر دیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کا یہ احتجاجی سلسلہ ملک کی موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال میں ایک اہم موڑ اختیار کرتا جا رہا ہے۔