LIVE
Loading Breaking News...

ناظم آباد اسپتال واقعہ، پولیس کا جعلی رپورٹ اور غفلت کا انکشاف

News Image
کراچی کے ناظم آباد اسپتال میں پیش آنے والے پُراسرار واقعے کی تحقیقات کے دوران پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ خاتون کے حاملہ ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا اور اس نے جعلی الٹراساؤنڈ رپورٹ جمع کروائی تھی۔ تاہم تفتیش کے دوران اسپتال کے عملے کی مجرمانہ غفلت بھی سامنے آئی ہے جنہوں نے بغیر ضروری ٹیسٹ کے خاتون کو داخل کیا۔
کراچی کے علاقے ناظم آباد میں پیش آنے والے ایک سنسنی خیز واقعے کی تحقیقات میں اہم موڑ اس وقت آیا جب پولیس نے تصدیق کی کہ مبینہ طور پر متاثرہ خاتون کے حاملہ ہونے کا کوئی بھی طبی یا سائنسی ثبوت موجود نہیں ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات اور شواہد سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ خاتون کی جانب سے اسپتال میں جمع کروائی جانے والی الٹراساؤنڈ رپورٹ جعلی تھی، جس کے ذریعے صورتحال کو سنگین رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔ یہ معاملہ شہر بھر میں موضوعِ بحث بنا ہوا تھا جس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے گہرائی سے چھان بین شروع کی تھی۔ تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے کہ خاتون نے جان بوجھ کر فرضی دستاویزات کا سہارا لیا تاکہ انتظامیہ اور عوام کو گمراہ کیا جا سکے۔ دوسری جانب اس پورے واقعے کے دوران اسپتال انتظامیہ اور عملے کی مجرمانہ غفلت اور لاپرواہی بھی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ پولیس تفتیش کے مطابق اسپتال کے ذمہ داران اور طبی عملے نے پروٹوکول اور بنیادی طبی ضابطوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مریضہ کو بغیر کسی ضروری تشخیصی ٹیسٹ یا اسکریننگ کے ہنگامی بنیادوں پر داخل کر لیا تھا۔ طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ کسی بھی مریض کو بغیر مکمل جانچ پڑتال کے داخل کرنا نہ صرف ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ یہ انسانی زندگی کے ساتھ کھیلنے کے مترادف بھی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس گھناؤنے کھیل اور فرضی رپورٹ تیار کرنے کے پس پردہ کارفرما کرداروں کا سراغ لگایا جا رہا ہے جبکہ اسپتال کے متعلقہ عملے کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس واقعے نے نجی اور سرکاری اسپتالوں میں طبی ایمرجنسیاں سنبھالنے کے طریقوں اور سیکیورٹی پروٹوکولز پر بھی شدید سوالات کھڑے کر دیے ہیں، اور شہری حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایسے تمام اداروں کے خلاف کڑی نگرانی کی جائے۔