LIVE
Loading Breaking News...

پمز اسپتال آتشزدگی اور سیکرٹری صحت کی برطرفی کا معاملہ

News Image
اسلام آباد کے پمز اسپتال کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ میں لگنے والی آگ کے بعد سیکرٹری صحت کو ہٹائے جانے کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔ اس اچانک اقدام سے سرکاری حلقوں میں اور تحقیقاتی عمل کے حوالے سے کئی نئے سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔
اسلام آباد کے معروف ترین اسپتال، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد سیاسی اور انتظامی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اس سنگین حادثے کے فوراً بعد سیکرٹری صحت کی برطرفی کے فیصلے نے حکومت کی کارروائی اور انکوائری کے طریقہ کار پر کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ یہ واقعہ 27 اگست کو پیش آیا تھا، جس کے نتیجے میں اسپتال کے اندرونی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا اور مریضوں کے ساتھ ساتھ طبی عملے میں بھی شدید خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق حادثے کے اگلے روز اسپتال کے اندرونی حصوں میں تباہ شدہ کوریڈورز اور متاثرہ حصوں کے مناظر نے انتظامی غفلت کا پول کھول دیا۔ واقعے کے فورا بعد ہونے والی تبدیلیوں اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے بجائے اعلیٰ سرکاری افسر کو ہٹائے جانے کو مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین اور سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے بڑے حادثات کے بعد صرف تبادلوں یا برطرفیوں سے اصل مسائل حل نہیں ہوتے، بلکہ اس کے لیے ایک شفاف اور غیر جانبدارانہ جوڈیشل یا اعلیٰ سطحی تحقیقات کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔ دوسری جانب، اسپتال انتظامیہ اور متعلقہ وزارت اس بات پر زور دے رہی ہے کہ صورتحال پر قابو پانے اور متاثرہ وارڈ کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ عملے کے ارکان اور متاثرہ مریضوں کے لواحقین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پمز اسپتال میں فائر سیفٹی کے انتظامات کا از سر نو جائزہ لیا جائے اور تمام عمارتوں میں حفاظتی پروٹوکولز کو سخت بنایا جائے۔ عوامی حلقوں میں بھی اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں حفاظتی اصولوں کی مبینہ خلاف ورزیوں پر اکثر تاخیری کارروائیاں کی جاتی ہیں، جو کسی بڑے جانی نقصان کا باعث بن سکتی ہیں۔ حکومتی ترجمان کی طرف سے اس معاملے پر مزید تفصیلات جلد سامنے لانے کا عندیہ دیا گیا ہے، جبکہ تحقیقاتی کمیٹی اس بات کا تعین کرنے میں مصروف ہے کہ آگ لگنے کی اصل وجوہات کیا تھیں۔ آیا یہ کسی شارٹ سرکٹ کا نتیجہ تھا یا اس کے پیچھے انتظامی غفلت کارفرما تھی، یہ تمام حقائق آنے والے دنوں میں ہی واضح ہو سکیں گے۔ تاہم، سیکرٹری صحت کی برطرفی نے اس پورے معاملے کو ایک نیا رخ دے دیا ہے اور اب عوام کی نظریں اس انکوائری کے حتمی نتائج پر مرکوز ہیں۔