Politics
عمران خان کی جیل کے حالات: حکومت کا غیر ملکی میڈیا پر سخت ردعمل
حکومت نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی صحت اور جیل میں ان کے حالات سے متعلق غیر ملکی میڈیا کی خبروں کو گمراہ کن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ وزارت کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق انہیں قید کے دوران تمام طبی سہولیات اور ملاقات کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی صحت اور اڈیالہ جیل میں ان کے حالات سے متعلق غیر ملکی میڈیا میں چلنے والی خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں سراسر گمراہ کن اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس قسم کی من گھڑت رپورٹس کا مقصد ملکی سلامتی اور سیاسی استحکام کو سبوتاژ کرنا ہے۔ وزارت کی طرف سے فراہم کردہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو جیل کے اندر قانون کے مطابق تمام سہولیات میسر ہیں اور ان کے بنیادی حقوق کا مکمل تحفظ کیا جا رہا ہے۔ وزارت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ عمران خان کو قید کے دوران ملاقات کے لیے اب تک تقریباً 198 سیشنز اور 900 سے زائد زائرین کی انٹریز فراہم کی جا چکی ہیں۔ یہ تمام اقدامات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ جیل انتظامیہ ان کے ساتھ قانون اور ضابطے کے مطابق رویہ رکھ رہی ہے اور انہیں کسی بھی بنیادی حق سے محروم نہیں رکھا گیا۔ اس کے علاوہ سابق وزیر اعظم کی طبی حالت کے حوالے سے بھی افواہوں کی تردید کی گئی ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق عمران خان کی گرفتاری اور قید کے بعد سے اب تک تقریباً 30 بار طبی معائنے کیے جا چکے ہیں۔ ماہر ڈاکٹروں اور طبی ٹیموں کی جانب سے کی گئی ان تمام تشخیص اور اسسمنٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی مکمل طور پر ہوش و حواس میں، ذہنی طور پر مستحکم اور صحت مند ہیں۔ حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ عدالتی احکامات اور ضابطے کے تحت تمام کارروائیاں شفاف طریقے سے جاری رکھی جائیں گی اور اس قسم کے بے بنیاد پروپیگنڈے سے ریاستی امور پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ سیاسی حلقوں اور عوامی سطح پر بھی اس معاملے پر مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے، تاہم سرکاری بیانات کے بعد صورتحال کافی حد تک واضح ہو چکی ہے۔