LIVE
Loading Breaking News...

سعودی خلائی ایجنسی کا 2030ء تک فلکیاتی واقعات کا گائیڈ

News Image
سعودی خلائی ایجنسی نے سال 2030ء تک مملکت کے آسمان پر رونما ہونے والے اہم ترین فلکیاتی اور سماوی واقعات کا ایک جامع گائیڈ جاری کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد خلائی علوم کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اور فلکیات کے شوقین افراد کو نئی راہیں دکھانا ہے۔
سعودی خلائی ایجنسی نے حال ہی میں ایک انتہائی اہم اور منفرد قدم اٹھاتے ہوئے سال 2030ء تک مملکت کے آسمان پر رونما ہونے والے تمام اہم فلکیاتی واقعات کا ایک جامع گائیڈ جاری کیا ہے۔ اس گائیڈ کا مقصد ملک بھر میں خلائی علوم، فلکیاتی تحقیق اور مشاہدات میں دلچسپی رکھنے والے محققین اور عام شہریوں کو آنے والے برسوں کے دوران آسمانی مناظر کے بارے میں پیشگی معلومات فراہم کرنا ہے۔ سعودی عرب میں خلائی شعبے کی ترقی اور اس حوالے سے عوامی بیداری بڑھانے کے لیے یہ ایک بڑا سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ جاری کردہ گائیڈ کے مطابق، اس عرصے کے دوران سعودی عرب کے آسمان پر سیاروں کے مجمع، شہاب ثاقب کی بارش، چاند گرہن، سورج گرہن اور دیگر نادر فلکیاتی مظاہر کا مشاہدہ کیا جاسکے گا۔ ایجنسی نے ان تمام واقعات کی تاریخیں اور اوقات بھی واضح کیے ہیں تاکہ فلکیات کے شوقین افراد اور سائنسی ادارے ان کے مشاہدے کے لیے پہلے سے تیاری کر سکیں۔ اس سے نہ صرف سائنسی تحقیق کو فروغ ملے گا بلکہ تعلیمی اداروں کے طلباء کو بھی عملی مشاہدے کا بہترین موقع ملے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں خلائی سائنس اور فلکیات کی طرف نوجوان نسل کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ سعودی خلائی ایجنسی کی جانب سے اس طرح کے گائیڈز کی فراہمی سے سیاحت کے ایک نئے شعبے یعنی 'آسٹرونومی ٹورزم' یا فلکیاتی سیاحت کو بھی زبردست فروغ ملے گا، کیونکہ دنیا بھر سے ماہرین فلکیات اور سیاح مملکت کے کھلے اور صاف آسمان کے نیچے ان نادر مناظر کا مشاہدہ کرنے کے لیے آئیں گے۔ حکومت کے ویژن 2030ء کے تناظر میں خلائی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ایجنسی نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مستقبل میں بھی اس طرح کی سائنسی معلومات اور رہنمائی فراہم کی جاتی رہے گی تاکہ مملکت کو خطے میں خلائی تحقیق اور ٹیکنالوجی کا مرکز بنایا جا سکے اور عوام میں سائنسی سوچ کو مزید پروان چڑھایا جا سکے۔