LIVE
Loading Breaking News...

نیٹ فلکس پر نکولس کیج کی چوری شدہ فلم کا مقدمہ

News Image
نامور ارب پتی فلم پروڈیوسر نے نکولس کیج کی غیر ریلیز شدہ تھرلر فلم کاپی چوری ہونے پر نیٹ فلکس کے خلاف 105 ملین ڈالر ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا ہے۔ یہ فلمی کاپی نیٹ فلکس کے دفتر سے مبینہ طور پر چوری یا گم ہو گئی تھی جس پر قانونی چارہ جوئی شروع ہو گئی ہے۔
عالمی شہرت یافتہ اسٹریمنگ پلیٹ فارم نیٹ فلکس کو ہالی ووڈ کے معروف اداکار نکولس کیج کی دوسری جنگ عظیم کے پس منظر میں بننے والی ایک غیر ریلیز شدہ فلم کے غائب ہونے پر ایک بڑے مالی مقدمے کا سامنا ہے۔ یہ مقدمہ ایک ارب پتی فلم پروڈیوسر کی جانب سے دائر کیا گیا ہے جنہوں نے فلمی کاپی کے ضائع یا چوری ہونے پر 105 ملین ڈالر کے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ سنسنی خیز معاملہ اس وقت سامنے آیا جب فلم کی ہارڈ ڈرائیو نیٹ فلکس کے دفتر سے مبینہ طور پر غائب ہو گئی۔ اس سنگین واقعے نے فلمی صنعت میں ہلچل مچا دی ہے اور پروڈیوسر نے اس غفلت پر سخت قانونی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فلم کا شمار انتہائی متوقع منصوبوں میں ہوتا تھا جس میں نکولس کیج نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ فلم کی کہانی دوسری جنگ عظیم کے حقیقی اور سنسنی خیز واقعات کے گرد گھومتی ہے، جس کی وجہ سے ناظرین اور مداحوں میں اس کی ریلیز کا بے صبری سے انتظار تھا۔ تاہم، اس غیر متوقع واقعے نے فلم کی پروڈکشن اور اسٹریمنگ کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ دوسری طرف نیٹ فلکس کے ذمہ داران اور قانونی ٹیم اس پورے معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ قیمتی ڈیٹا اور ہارڈ ڈرائیو کس طرح محفوظ اداروں یا دفاتر سے غائب ہوئی۔ عدالت میں جمع کرائے گئے دستاویزات کے مطابق مدعی کا موقف ہے کہ اس لاپروائی کی وجہ سے انہیں اور فلم کے تمام وابگان کو ناقابل تلافی مالی اور پیشہ ورانہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر مقدمے میں نیٹ فلکس کی غفلت ثابت ہو جاتی ہے تو کمپنی کو نہ صرف بھاری بھرکم جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے بلکہ اس سے اسٹریمنگ انڈسٹری میں ڈیٹا سیکیورٹی کے حوالے سے بھی سخت سوالات اٹھیں گے۔ اس ہائی پروفائل مقدمے کی سماعت آنے والے دنوں میں مزید اہم انکشافات کا باعث بن سکتی ہے، کیونکہ دونوں فریقین اپنے اپنے دلائل کے ساتھ عدالت میں پیش ہو رہے ہیں۔