LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کا ایران کے مالیاتی نیٹ ورک کے خلاف نیا کریک ڈاؤن

News Image
امریکہ نے ایران کے مالیاتی لین دین کو سختی سے کچلنے کے لیے ایک اور اہم بینک پر پابندی عائد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس سلسلے میں مصر کے دوسرے بڑے بینک بنک مصر کو امریکی پابندیوں کا سامنا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے بھی اس معاملے پر فوری تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
امریکہ نے ایران کے مالیاتی نیٹ ورک پر دباؤ مزید بڑھاتے ہوئے ایک اور بینک پر پابندی عائد کرنے کا جامع منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد تہران کے تمام مشکوک مالی لین دین اور بین الاقوامی ذرائع سے ہونے والی فنڈنگ کو مؤثر انداز میں روکنا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس نئی پالیسی کے تحت ایران کے ساتھ تجارتی اور مالی تعلقات رکھنے والے اداروں کو کڑی نگرانی میں رکھا جائے گا تاکہ پابندیوں کی خلاف ورزیوں کو روکا جا سکے۔اس سلسلے میں مصر کا دوسرا سب سے بڑا مالیاتی ادارہ بنک مصر بھی امریکی محکمہ خزانہ کی حالیہ پابندیوں کی زد میں آ گیا ہے۔ مصری بنک پر امریکی نوٹس کے بعد خطے کے مالیاتی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور متعلقہ حکام صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم تہران کے خلاف واشنگٹن کی جاری اقتصادی مہم کا حصہ ہے جس کا دائرہ اب مشرق وسطیٰ کے دوسرے ممالک تک پھیلتا جا رہا ہے۔دوسری جانب اس پیش رفت کے بعد متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے بھی فوری طور پر صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ مصری اور اماراتی مرکزی بینک اس معاملے پر قریبی رابطہ کاری کر رہے ہیں تاکہ بنک مصر کو درپیش اس چیلنج سے نمٹا جا سکے اور علاقائی مالیاتی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکہ کی یہ نئی پابندیاں خطے کے بینکنگ سیکٹر پر گہرے اثرات مرتب کریں گی اور بین الاقوامی بینک ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کے مالی تعاون سے پہلے سو بار سوچیں گے۔