World
برطانیہ کا مقبوضہ مغربی کنارے میں برطانوی کارکن کی گرفتاری پر اسرائیل سے رابطہ
برطانوی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں صیہونی آباد کاروں کے ہاتھوں برطانوی طالب علم کارکن کی گرفتاری پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ برطانوی وزارت خارجہ نے اس معاملے کو اسرائیلی حکام کے سامنے باضابطہ طور پر اٹھا دیا ہے۔
برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے کے ایک فلسطینی گاؤں میں صیہونی آباد کاروں اور قابض فورسز کے ہاتھوں برطانوی طالب علم کارکن کی گرفتاری پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ برطانوی وزارت خارجہ کے مطابق دوائیس سالہ برطانوی طالب علم اور کارکن فن جوگن (Finn Joughin) کو فلسطینی گاؤں ام الکیر سے حراست میں لیا گیا تھا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب علاقے میں کشیدگی عروج پر تھی اور مقامی فلسطینیوں کے ساتھ انسانی حقوق کے کارکن بھی موجود تھے۔
ذرائع کے مطابق فن جوگن فلسطینیوں کے حقوق کے لیے سرگرم عمل ہیں اور وہ علاقے میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے۔ گرفتاری کی اس کارروائی کے بعد برطانوی حکام نے فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیا اور اسرائیلی حکام سے رابطہ کیا۔ لندن میں وزارت خارجہ کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ برطانوی سفارتی عملہ اس صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور گرفتار برطانوی شہری کو تمام ممکنہ قونصلر امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
ام الکیر گاؤں حالیہ مہینوں میں صیہونی آباد کاروں اور اسرائیلی فوج کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں کی وجہ سے خبروں میں رہا ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیمیں مغربی کنارے میں فلسطینیوں اور ان کی حمایت کرنے والے غیر ملکی کارکنوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد اور گرفتاریوں پر مسلسل تشویش ظاہر کرتی رہی ہیں۔ برطانوی حکومت کی جانب سے اس معاملے کو اٹھائے جانے کے بعد اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ اسرائیلی حکام کی طرف سے کیا ردعمل سامنے آتا ہے۔
برطانوی دفتر خارجہ نے اپنے شہریوں کو خطے کی صورتحال کے تناظر میں احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے جبکہ فن جوگن کی فوری اور محفوظ رہائی کے لیے سفارتی سطح پر کوششیں جاری ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی برطانوی حکومت کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ پرامن کارکنوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔