LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ: غیر قانونی چینل کراسنگ پر دو کشتی پائلٹوں کو قید

News Image
برطانوی عدالت نے غیر قانونی طور پر انگلش چینل عبور کرانے والے دو افراد کو سزائیں سنا دی ہیں۔ دونوں ملزمان نے 80 سے زائد افراد سے بھری خطرناک کشتیوں کی پائلٹنگ کا اعتراف کیا تھا۔
برطانیہ میں غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کے خلاف قانونی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، اور تازہ ترین عدالتی فیصلوں میں مزید دو چھوٹے کشتیوں کے پائلٹوں کو جیل بھیج دیا گیا ہے۔ ان دونوں افراد پر یہ سنگین الزام تھا کہ انہوں نے خطرناک اور غیر قانونی طریقوں سے انگلش چینل عبور کرانے کی کوشش کی اور مسافروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا۔ عدالتی کارروائی کے دوران دونوں ملزمان نے اس بات کا اعتراف کر لیا کہ وہ ایسی اور ہیڈ کراؤڈڈ یا حد سے زیادہ بھری ہوئی کشتیوں کو چلا رہے تھے جن میں سے ہر ایک میں اسی (80) سے زائد افراد سوار تھے۔ یہ کشتیاں سمندری سفر کے لیے انتہائی غیر محفوظ اور انسانی اسمگلنگ کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے خطرناک سمندری سفر تارکین وطن کی جانوں کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بن چکے ہیں، جن پر قابو پانے کے لیے سرحدی اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے سخت ترین اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس ضمن میں عدالتی فیصلے کو تارکین وطن کی سمندری اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ پائلٹوں کو سنائی جانے والی ان سزاؤں کا بنیادی مقصد ایسے تمام نیٹ ورکس کو سخت پیغام دینا ہے جو انسانی جانوں سے کھیل کر غیر قانونی آمد و رفت کا دھندا چلا رہے ہیں۔ برطانوی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واضح کیا ہے کہ اس قسم کے غیر قانونی نیٹ ورکس کے خلاف گھیرا مزید تنگ کیا جائے گا اور پناہ گزینوں کی سمندری اسمگلنگ میں ملوث کسی بھی فرد کو رعایت نہیں دی جائے گی۔ حکام نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے غیر قانونی چینل کراسنگ کے رجحان میں نمایاں کمی واقع ہوگی اور انسانی اسمگلنگ کے مکروہ دھندے کا سدباب ممکن ہو سکے گا۔