LIVE
Loading Breaking News...

ناظم آباد نجی اسپتال زچگی کیس اور طبی سوالات

News Image
کراچی کے علاقے ناظم آباد کے ایک نجی اسپتال میں زچگی کے دوران پیش آنے والے واقعے نے طبی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ متاثرہ خاندان نے اسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
کراچی کے گنجان آباد علاقے ناظم آباد میں واقع ایک نجی زچگی اسپتال اس وقت شدید تنقید کی زد میں آ گیا ہے جب وہاں پیش آنے والے ایک واقعے نے طبی خدمات کے معیار اور حفاظتی اقدامات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق زچگی کے دوران پیش آنے والی پیچیدگیوں نے نہ صرف مریضہ کے اہل خانہ کو صدمے سے دوچار کیا بلکہ اسپتال کے اندر طبی سہولیات کی فراہمی کے نظام پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ بروقت اور مناسب طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے صورتحال خطرناک حد تک بگڑ گئی، جو اسپتال کے عملے کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور ایمرجنسی سے نمٹنے کی تیاری پر بڑا سوال ہے۔ اسپتال کے ذرائع اور واقعے سے باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات شہر کے نجی طبی اداروں میں ضابطہ اخلاق کی عدم پابندی اور چیک اینڈ بیلنس کے فقدان کو ظاہر کرتے ہیں۔ اکثر چھوٹے اور درمیانے درجے کے نجی اسپتالوں میں مستند ماہر امراض نسواں اور انتہائی نگہداشت کا عملہ چوبیس گھنٹے موجود نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے معمولی طبی پیچیدگیاں بھی جان لیوا ثابت ہو جاتی ہیں۔ شہریوں اور سماجی حلقوں کی جانب سے اس واقعے کے بعد محکمہ صحت سندھ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ناظم آباد کے اس نجی اسپتال کے خلاف فوری اور شفاف تحقیقات کا آغاز کرے تاکہ زمینی حقائق کا تعین کیا جا سکے اور ذمہ داران کا کاتعین کیا جا سکے۔ طبی ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ زچگی کے معاملات انتہائی حساس نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اعلیٰ درجے کے طبی آلات اور تجربہ کار سرجنز کی موجودگی ناگزیر ہے۔ نجی اسپتالوں کی تجارتی بنیادوں پر چلنے والی سرگرمیوں میں انسانی جانوں کے تحفظ کو اکثر پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے، جو کہ ایک قابلِ تشویش امر ہے۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ حکومتِ سندھ اور متعلقہ ریگولیٹری باڈیز کو کراچی سمیت پورے صوبے میں نجی اسپتالوں کی کڑی مانیٹرنگ کرنی چاہیے تاکہ آئندہ اس قسم کے دلخراش واقعات کا سدباب ممکن ہو سکے اور شہریوں کو معیاری علاج کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔